انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارت کی دو درجاتی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تجویز مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اگلے دورانیے میں بھی تمام 12 فل ممبر ممالک ایک ہی ڈویژن میں شامل ہوں گے۔

ٹیموں کو دو درجوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹوز کی زیر سربراہی ورکنگ گروپ کو کرکٹ کے تینوں فارمیٹس سے متعلق اہم مسائل کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کرک انفو کے مطابق گزشتہ ہفتے دبئی میں ہونے والی آئی سی سی میٹنگ میں ورکنگ گروپ نے اپنی سفارشات آئی سی سی بورڈ اور چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کو پیش کیں۔

دو درجوں پر مشتمل نظام پر گزشتہ ایک دہائی سے وقتاً فوقتاً بات ہوتی رہی ہے، یہ معاملہ ایک بار پھر زیرِ غور آیا لیکن مؤثر فنڈنگ ماڈل نہ ہونے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔

پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا دوسرے درجے کی ٹیموں کو مالی طور پر سپورٹ کریں مگر یہ بات آگے نہیں بڑھ سکی، ممکنہ طور پر ڈویژن ٹو میں جانے والے ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور پاکستان اس تجویز کے مخالف تھے۔

تین بڑے کرکٹنگ ممالک بھی اس خطرے سے فکرمند تھے کہ اگر وہ ناقص کارکردگی دکھائیں تو مالی نقصان کے باعث دوسرے درجے میں جا سکتے ہیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ کے سربراہ رچرڈ تھامسن نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ اگر انگلینڈ کسی کمزور دور سے گزرے تو ہم ڈویژن ٹو میں چلے جائیں اور بھارت یا آسٹریلیا سے نہ کھیل سکیں،یہ ممکن نہیں ہو سکتا، اس میں سمجھداری کی ضرورت ہے۔

نتیجتاً ورکنگ گروپ نے 12 ٹیموں پر مشتمل ڈی ٹی سی کی تجویز دی ہے، اس میں ممکنہ طور پر افغانستان، زمبابوے اور آئرلینڈ بھی شامل ہوں گے۔

نیا دورانیہ جولائی 2027 سے شروع ہوگا، ہر ٹیم کومخصوص تعداد میں ٹیسٹ میچز لازمی طور پر کھیلنے ہوں گے، البتہ تعداد کا ابھی تعین نہیں ہوا۔

اضافی فنڈنگ دستیاب نہیں ہوگی جو آئرلینڈ جیسے ممالک کیلیے ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی میں پہلے ہی ایک رکاوٹ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی