بھارت کو ایک اور ناکامی، آئی سی سی کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے متعلق اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارت کی دو درجاتی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تجویز مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اگلے دورانیے میں بھی تمام 12 فل ممبر ممالک ایک ہی ڈویژن میں شامل ہوں گے۔
ٹیموں کو دو درجوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔
نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹوز کی زیر سربراہی ورکنگ گروپ کو کرکٹ کے تینوں فارمیٹس سے متعلق اہم مسائل کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کرک انفو کے مطابق گزشتہ ہفتے دبئی میں ہونے والی آئی سی سی میٹنگ میں ورکنگ گروپ نے اپنی سفارشات آئی سی سی بورڈ اور چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کو پیش کیں۔
دو درجوں پر مشتمل نظام پر گزشتہ ایک دہائی سے وقتاً فوقتاً بات ہوتی رہی ہے، یہ معاملہ ایک بار پھر زیرِ غور آیا لیکن مؤثر فنڈنگ ماڈل نہ ہونے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔
پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا دوسرے درجے کی ٹیموں کو مالی طور پر سپورٹ کریں مگر یہ بات آگے نہیں بڑھ سکی، ممکنہ طور پر ڈویژن ٹو میں جانے والے ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور پاکستان اس تجویز کے مخالف تھے۔
تین بڑے کرکٹنگ ممالک بھی اس خطرے سے فکرمند تھے کہ اگر وہ ناقص کارکردگی دکھائیں تو مالی نقصان کے باعث دوسرے درجے میں جا سکتے ہیں۔
انگلش کرکٹ بورڈ کے سربراہ رچرڈ تھامسن نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ اگر انگلینڈ کسی کمزور دور سے گزرے تو ہم ڈویژن ٹو میں چلے جائیں اور بھارت یا آسٹریلیا سے نہ کھیل سکیں،یہ ممکن نہیں ہو سکتا، اس میں سمجھداری کی ضرورت ہے۔
نتیجتاً ورکنگ گروپ نے 12 ٹیموں پر مشتمل ڈی ٹی سی کی تجویز دی ہے، اس میں ممکنہ طور پر افغانستان، زمبابوے اور آئرلینڈ بھی شامل ہوں گے۔
نیا دورانیہ جولائی 2027 سے شروع ہوگا، ہر ٹیم کومخصوص تعداد میں ٹیسٹ میچز لازمی طور پر کھیلنے ہوں گے، البتہ تعداد کا ابھی تعین نہیں ہوا۔
اضافی فنڈنگ دستیاب نہیں ہوگی جو آئرلینڈ جیسے ممالک کیلیے ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی میں پہلے ہی ایک رکاوٹ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔