آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کا ملک بھر کے وکلا سے آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کا ملک بھر کے وکلا سے آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 November, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ملک بھر کے وکلا سے آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا، آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی وفاقی آئینی عدالت کو مسترد کرتی ہے۔آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے مطابق سپریم کورٹ کی موجودگی میں کسی آئینی عدالت کی ضرورت نہیں ہے، جو اس غیر آئینی ادارے کا حصہ بنے گا وہ آئین، عدلیہ اور عوام کا مخالف تصور ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ موجودہ ترامیم ائین کے بنیادی ڈھانچے پر غیر آئینی حملہ ہے۔آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے مطابق موجودہ ترامیم بغیر کسی جائز عوامی مینڈیٹ اور بغیر عوامی تائید کے کی گئی، تمام بار ایسوسی ایشنز ہر جمعرات کو جنرل ہاوس اجلاس کریں اور ریلیاں نکالیں۔اعلامیہ کے مطابق آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کنونشنز کے انعقاد کے لیے تمام بار ایسوسی ایشنز سے تعاون کرے گی۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہر جمعرات کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ کا وکلا ایکشن کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر جمعرات کو ارجنٹ کیسز کے بعد مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔صدر لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ پر جمعرات کو جنرل ہاس اجلاس کے بعد ریلی نکالی جائے گی، امید کرتا ہوں تمام ججز ہماری ہڑتال کی کال پر بھی عمل کریں گے۔آصف نسوانہ نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ متاثر ججز ہوئے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کی حیثیت ختم ہوگئی ہے، ہائیکورٹ کے ججز پر ٹرانسفر کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا کی زمین دہشتگردوں پر تنگ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 23خواج ہلاک خیبرپختونخوا کی زمین دہشتگردوں پر تنگ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 23خواج ہلاک بنوں، شہریوں پر حملے کی کوشش ناکام، فتن الخوارج کا دہشتگرد بارودی مواد نصب کرتے ہوئے ہلاک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ویزا سسٹم کا اعلان کردیا ، ٹکٹ ہولڈرز جلد اپائنٹمنٹ حاصل کر سکیں گے چیئرمین سی ڈی اے سے پنجاب مینجمنٹ سروسز کے پوسٹ انڈکشن ٹریننگ کورس کے افسران کی ملاقات اسلام آباد میں ایم ٹیگ کی سہولت کا آغاز، کن کن مقامات سے حاصل کئے جا سکتے ہیں ، تفصیلات سب نیوز پر عمران خان کی بہنوں کا آڈیالہ جیل کے قریب دھرنا، پولیس نے کارکنان کی گرفتاریاں شروع کردیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔