فیصلہ تاریخی،نفاذعدالتی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوگا، حسینہ واجد کو ایک ماہ کے اندر واپس لایا جائے: طلبہ تحریک پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو سزا پر عملدرآمد کے لیے ایک ماہ کے اندر واپس لایا جائے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طلبہ تحریک کے نتیجہ میں اسی سال فروری میں قائم ہونے والی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت شیخ حسینہ واجد کی سزائے موت کا خیرمقدم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی انقلاب کے ہزاروں ہلاک ہونے والو اور ہزاروں زخمی جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔
ناہید اسلام نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوگا لیکن جس دن یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا، ہم مکمل طور پر تب مطمئن ہوں گے، جولائی انقلاب میں مرنے والوں کی روحوں کو سکون ملے گا، ان کے خاندانوں اور زخمی جنگجوؤں کو سکون ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ حسینہ کو اگلے مہینے کے اندر بنگلہ دیش واپس لایا جائے تاکہ اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔