28ویں آئینی ترمیم جلد پیش کی جائے گی، مقامی حکومت، این ایف سی اور صحت کے امور شامل ہوں گے: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد/چنیوٹ: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم جلد پیش کی جائے گی اور اسے منظور کر لیا جائے گا۔
چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم جلد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی اور امکان ہے کہ یہ منظور بھی ہو جائے گی، اٹھائیسویں ترمیم لوکل باڈیز، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اور صحت کے شعبے سے متعلق ہوگی۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ترمیم پاس کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، اٹھائیسویں آئینی ترمیم عوامی مسائل پر مبنی ہے اور اسے پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ججز کے استعفوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ججز نے اپنے تحفظ کے لیے حلف اٹھایا ہے اور کسی جج کو سیاسی احتجاج میں ملوث ہونا زیب نہیں دیتا۔ جن لوگوں نے استعفیٰ دیا ہے، ان کے ذاتی مقاصد ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بلدیاتی نظام، این ایف سی اور صحت کے معاملات پر بحث جاری ہے اور اگر تمام فریقین متفق ہو گئے تو اٹھائیسویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ترمیم عوامی مفادات سے متعلق ہوگی اور اس کا مقصد شہریوں کے بنیادی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جائے گی
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔