سزائے موت کا حکم، بنگلادیش کا بھارت سے فوری طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سزائے موت کا حکم، بنگلادیش کا بھارت سے فوری طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (سب نیوز)بنگلا دیش نے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت کے حکم کے بعد بھارت سے فوری طور پر حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو جسٹس محمد غلام مرتضی کی سربراہی نے 3 رکنی ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے تشدد پراکسانا، قتل کے حکم کے الزام میں شیخ حسینہ کو عمر قید اور دیگر 3 الزامات میں سزائے موت سنائی۔عدالت نے بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم دیا۔اس فیصلے کے بعد بنگلادیش نے بھارت میں پناہ لینے والی شیخ حسینہ واجد اور کمال کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگلا دیش کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کو ان کے خلاف سنائے گئے فیصلہ کے بعد فوری طور پر حوالے کرے۔بنگلادیشی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت دوطرفہ معاہدے کے تحت شیخ حسینہ اور سابق وزیرداخلہ کو حوالے کرنے کا پابند ہے۔بیان میں مزید کہا گیا اگر کوئی اور ملک ان افراد کو، جن پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ثابت ہو چکا ہے، پناہ دیتا ہے تو یہ ایک انتہائی غیر دوستانہ اقدام اور انصاف کی توہین ہوگی۔یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد پرتشدد مظاہروں کے بعد اگست 2024 میں بھارت فرار ہو گئی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس ، اسلام آباد کے اہم ترین منصوبوں پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس ، اسلام آباد کے اہم ترین منصوبوں پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ ہر چیز کا حساب لیا جائیگا، عدالتی فیصلے پر شیخ حسینہ واجد کا دھمکی آمیز ردعمل وراثت خدائی حکم ہے، وراثت کا حق دلانا ریاستی ذمہ داری ہے، خواتین کی حق وراثت سے متعلق فیصلہ جاری وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے چین کے سفیر کی ملاقات،انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق آزاد کشمیر اسمبلی میں انورالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم منتخب اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترامیم شامل کی جائیں گی، مصطفی کمالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی حوالگی کا مطالبہ شیخ حسینہ واجد فوری طور پر سزائے موت بھارت سے کے خلاف کے بعد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :