افغانستان کے اسٹار آل راؤنڈر راشد خان نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق گردش کرتی خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے باضابطہ طور پر اپنی دوسری شادی کی تصدیق کر دی ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر اور ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جن میں راشد خان ایک خاتون کے ہمراہ روایتی افغانی لباس میں بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ ان مناظر نے شائقین کے درمیان یہ قیاس آرائیاں جنم دی تھیں کہ کرکٹر نے ایک مرتبہ پھر شادی کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کلین بولڈ ہوکر ریویو لینے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی‘، افغان کپتان راشد خان کا مذاق بن گیا

اب راشد خان نے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ تصویر میں موجود خاتون درحقیقت ان کی اہلیہ ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Rashid Khan (@rashid.

khan19)

راشد خان نے بتایا کہ ان کی دوسری شادی 2 اگست 2025 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ میری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ میں نے نکاح کیا اور ایک ایسی خاتون سے شادی کی جو محبت، سکون اور شراکت کی وہ تمام خوبیاں رکھتی ہیں جن کی میں ہمیشہ خواہش رکھتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں حال ہی میں اپنی بیوی کو ایک چیریٹی ایونٹ پر ساتھ لے گیا تھا اور یہ افسوسناک ہے کہ اس سادہ بات پر لوگ اندازے لگا رہے ہیں۔ وہ میری بیوی ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، کچھ بھی چھپانے کے لیے نہیں۔ جن سب نے محبت، حمایت اور سمجھ بوجھ دکھائی، ان سب کا شکریہ

یہ بھی پڑھیں: افغان کرکٹر راشد خان نے عنایا خان سے رابطہ کرکے کیا مطالبہ کیا؟ اداکارہ کا انکشاف

راشد نے اپنی دوسری اہلیہ کی شناخت عوام سے پوشیدہ رکھی ہے۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے ٹی20 کپتان نے اپنے ہی قریبی رشتہ دار میں شادی کی ہے۔ ان کی شادی روایتی پشتون رسم و رواج کے مطابق انجام پائی۔

یاد رہے کہ راشد خان نے اکتوبر 2024 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روایتی پشتون رسم و رواج کے تحت شادی کی تھی، جس میں افغان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد نبی سمیت متعدد کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی۔ شادی کی اس تقریب کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان کھلاڑی افغانستان کے اسٹار آل راؤنڈر راشد خان راشد خان راشد خان دوسری شادی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان کھلاڑی افغانستان کے اسٹار آل راؤنڈر راشد خان

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل