کراچی:خونی ٹینکر کی زد میں آکر بچی اور خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں میں تیز رفتار ٹینکر ز کی ٹکر سے کمسن بچی اور2 خواتین جاںبحق ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق جیکسن تھانے کے علاقے کیماڑی سکندرآباد اسٹاپ کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے کمسن بچی جاں بحق ہوگئی، بچی کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔ متوفیہ بچی کی شناخت 10 سالہ حسیبہ دختر طاہر کے نام سے کی گئی۔ متوفیہ بچی اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ اچانک موٹر سائیکل سے گر گئی اور عقب سے آنے والے واٹر ٹینکر کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئی، متوفیہ بچی سکندر آباد کی رہائشی تھی۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کو تحویل میں لیکر اس کے ڈرائیور کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا ہے جہاں واٹر ٹینکر کے مالک کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفیہ بچی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی۔سرجانی ٹاؤن میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے خاتون جاں بحق ہوگئی۔ متوفیہ خاتون جیسے ہی رکشے سے اتری تو واٹر ٹینکر نے ٹکر مار دی۔ خاتون کی لاش قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی۔سرجانی ٹاؤن کے علاقے روزی گوٹھ منگل بازار کے قریب ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار خاتون جاں بحق ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاں بحق ہوگئی متوفیہ بچی واٹر ٹینکر کی ٹکر سے ٹینکر کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔