تسنیم نیوز ایجنسی کے دفاعی گروپ کے مطابق یہ کاروائی مسلسل نگرانی، انٹیلی جنس کی جمع آوری اور دیگر اقدامات کی صورت میں عمل میں لائی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے شعبہ اطلاعات نے ایران میں امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کی طرف سےسرگرم نیٹ ورک کی نشاندہی اور اس نیٹ ورک کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے دفاعی گروپ کے مطابق یہ کاروائی مسلسل نگرانی، انٹیلی جنس کی جمع آوری اور دیگر اقدامات کی صورت میں عمل میں لائی گئی۔ اعلامیے کا متن درج ذیل ہے:

بسمه‌تعالی
ایران کے معزز عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ پاسداران انقلاب کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے دوران ملک کے اندر امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کی طرف سے سرگرم عمل ایک اینٹی سیکیورٹی نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی اور مسلسل نگرانی سمیت انٹیلی جنس اقدامات کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔ صہیونی حکومت نے 12 روزہ جنگ کی ناکامی کے بعد خطے میں امریکہ کی پراکسی کی حیثیت سے عسکری میدان میں شرمناک شکست کی تلافی کے لیے عوامی سلامتی میں خلل ڈالنے کے لیے اپنی پالیسیوں اور منصوبوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے 2025 کے موسم خزاں کے آخری نصف میں ملک کی سلامتی میں خلل ڈالنے کے لئے غدار عناصر کا ایک نیٹ ورک تشکیل دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور پاسداران انقلاب کے شعبہ اطلاعات سے تعلق رکھنے والے امام زمان علیہ السلام کے گمنام محافظوں نے اس نیٹ ورک کے اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ آپریشن متعدد صوبوں میں مربوط انداز میں کیا گیا، جس کے دوران صیہونی حکومت سے وابستہ سلیپنگ سیلز پر حملہ کیا گیا جو سیکیورٹی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس نیٹ ورک کے بارے میں اضافی رپورٹس اور مزید معلومات بعد میں ایران کے معزز عوام تک پہنچیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم