پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں 2025 کے دوران حیران کن تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، جس میں سب سے نمایاں کردار عام شہریوں اور چھوٹے سرمایہ کاروں کا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو روایتی طور پر رسک لینے سے گریز کرتا تھا، مگر اس بار مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

بلومبرگ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ

ملکی بَینچ مارک کےایس ای-100 انڈیکس رواں سال اب تک تقریباً 40 فیصد بڑھ چکا ہے، جس نے اسے ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی استحکام اور بہتر منافع کی توقعات نے عوام کا اعتماد بڑھایا ہے۔

پراپرٹی کی قیمتوں میں جمود اور بینک منافع میں کمی

چونکہ ملک میں پراپرٹی کے نرخ رکے ہوئے ہیں اور گزشتہ 2 سال میں بینک منافع کی شرح آدھی رہ گئی ہے، اس لیے بہت سے لوگ اپنی بچت کے بہتر استعمال کے لیے اسٹاک مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے بتایا کہ یہ مکمل طور پر لیکویڈیٹی پر مبنی ریلی ہے، اور جب تک یہ سرمایہ کسی نئی سمت نہیں جاتا، مارکیٹ مضبوط رہے گی۔

معاشی بہتری اور عالمی اداروں کی جانب سے اعتماد میں اضافہ

پاکستان نے معاشی مشکلات سے نکلتے ہوئے خاطر خواہ بہتری دکھائی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل اور فِچ ریٹنگز دونوں نے اس سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔ ان اداروں نے مؤثر مالیاتی انتظام اور اصلاحات کی رفتار کی تعریف کی ہے، جو وزیرِاعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف معاونت یافتہ پالیسیوں کے تحت ممکن ہوا۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کا حالیہ طور پر 2030 تک اعلیٰ عہدے پر برقرار رہنا بھی سیاسی تسلسل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

نئے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد مارکیٹ میں داخل

ستمبر کی سہ ماہی میں 36 ہزار نئے ٹریڈنگ اکاؤنٹس کھلے، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اسی طرح اکتوبر میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ کا ٹریڈنگ والیوم 200 ملین ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار، عام شہریوں کا دلچسپ سفر

44 سالہ جاوید خالد مرزا، جو عسکری بینک میں سیکیورٹی افسر ہیں، پہلے اسٹاک مارکیٹ کو ’جوا‘ سمجھتے تھے۔ مگر فیس بک پر ملنے والے ’فِن فلوئنسرز‘ کی تجزیاتی ویڈیوز نے انہیں قائل کیا، جس کے بعد انہوں نے نیشنل فوڈز کے حصص خریدے، وہی کمپنی جس کی پراڈکٹس وہ گھر میں استعمال کرتے ہیں۔

مقامی میوچل فنڈز کی دلچسپی بھی بڑھ گئی

میوچل فنڈز میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ سال کے آغاز میں جہاں مقامی فنڈز کے صرف 9 فیصد اثاثے اسٹاکس میں لگے تھے، وہ ستمبر تک بڑھ کر 16 فیصد ہو گئے۔

خطرات برقرار، مہنگائی اور جغرافیائی کشیدگی بڑا چیلنج

اگرچہ مارکیٹ کا رجحان مثبت ہے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ جشن خراب کر سکتا ہے۔

بلومبرگ اکنامکس کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی توقع سے زیادہ بڑھی ہے، جس سے شرحِ سود میں کسی فوری کمی کا امکان کم ہے۔

اسی طرح بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی بھی سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

غیرملکی سرمایہ کار منافع سمیٹ رہے ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں مقامی سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، وہیں غیر ملکی فنڈز اس سال 308 ملین ڈالر مالیت کے حصص بیچ چکے ہیں جو 2018 کے بعد سب سے بڑا سالانہ انخلا ہے۔

اسٹاک ہوم کے فنڈ مینیجر میتیاس مارٹنسن کے مطابق
آگے مثبت رہنے کے لیے آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ پاکستان کے اگلے 10 سال پچھلی دہائی سے بہتر ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ منافع مزید بڑھ سکتا ہے، لیکن رفتار اب نسبتاً سست اور مستحکم ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاروں مارکیٹ میں رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق