خیبرپختونخوا: سٹون کرشنگ کیس میں عدالت نے درخواست نمٹا دی، حکمنامہ بعد میں جاری ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں سٹون کرشنگ سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے اور مناسب حکمنامہ بعد میں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ فوری طور پر سٹون کرشنگ کھولنے کا حکم نہ دیا جائے اور پہلے مالکان متعلقہ اداروں کو مطمئن کریں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عدالت کا مقصد ماحولیات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اسٹون کرشنگ پلانٹس کیس کی سماعت
وکیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے قواعد کے مطابق شہروں میں سٹون کرشنگ یونٹس کے لیے 500 میٹر اور دیہی علاقوں میں 300 میٹر فاصلہ ہونا چاہیے، جبکہ بعض دیہی علاقوں میں 60 میٹر کے فاصلے پر یہ کام جاری ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ عدالت کا کام صرف حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کروانا نہیں اور یہ ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہے، تاہم وہ متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کو اسٹون کرشنگ کے رولز مرتب کرنے کی مہلت دیدی
عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد حتمی حکمنامہ جاری کرنے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبرپختونخوا سٹون کرشنگ وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا سٹون کرشنگ وفاقی آئینی عدالت سٹون کرشنگ
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔