"خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بشریٰ تسکین کا موقف آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) دی اکانومسٹ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے کہا ہے کہ خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بہت سی چیزیں چھاپی نہیں جا سکتی تھیں، پہلے بھی بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے پر رپورٹنگ ہوتی رہی ہے، لیکن ہم نے اس پر کام شروع کیا تو ہمارے لیے بہت ساری معلومات حیران کن تھیں، سب سے زیادہ بشریٰ بی بی کا روحانی بصیرت کا لبادہ جو اوڑھا ہوا تھا اور عمران خان کو جس طرح انہوں نے کنٹرول کیا تو اس کے نتیجے میں ملک کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
پاکستان کو 26ویں اور27ویں ترمیم نے استحکام دیا ہے،ملک کو استحکام دینے کیلئے اور ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے،طلال چودھری
دنیا نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سیاسی وعدے صرف باتوں کی حد تک تھے، ہم نے اس میں سے کسی ایک پر بھی عمل ہوتے نہیں دیکھا، ہم نے ان کی پارٹی کے سینئر ممبران، ان کی کابینہ میں شامل وزرا، ان کے اراکین پارلیمنٹ سمیت درجنوں افراد سے رابطہ کیا تو اکثریت نے اعتراف کیا کہ عمران خان کی ناکامی کی وجوہات اسٹیلشمنٹ کے عنصر کے بجائے انتظامی تھیں۔
کالے جادو اور سیاست میں مداخلت سے متعلق سوال پر صحافی بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یاد ہو کہ جب بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی تھی تو جمائمہ نے ایک ٹوئٹ کیا تھا، جس میں کالے جادو کا تذکرہ تھا لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس معاملے کو اس طرح سے رپورٹ نہیں کیا۔
مشن کلین سوئپ، پاکستان کا سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کیا تو ہمارے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ ہم اپنے ادارے اور بین الاقوامی آڈینس کو کالے جادو یا روحانیت سے متعلق کس طرح سے سمجھائیں گے حالانکہ پاکستان میں تو اس طرح کے معاملات عام ہیں لیکن خوش قسمتی سے ہم جن جن لوگوں سے ملے اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے تو اس سے ہمارے لیے چیزیں آسان ہوتی چلی گئیں۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے طلاق لے کر عمران خان سے شادی کرنے سے متعلق سینئر صحافی نے بتایا کہ جب اس حوالے سے ہماری خاور مانیکا سے بات ہوئی تو انہوں نے دوران گفتگو ایک جملہ کہا کہ بشریٰ بی بی بلا کی ذہین تھیں۔
جنوبی افریقا نے بھارت کو 15 سال بعد ٹیسٹ میچ میں شکست دے دی
بشریٰ تسکین کے مطابق آپ اس سے خود اندازہ لگا لیں، ظاہر ہے وہ تو بشریٰ بی بی کو بہت سالوں سے جانتے تھے، جو چیز ہمارے لیے دھماکے دار اور حیران کن چیز تھی وہ یہ کہ جب یہ خبر آئی کہ عمران خان کو ایک پیر اور روحانی شخصیت مل گئی ہے اور وہ ایک خاتون ہیں، جب یہ خبر آئی کہ عمران خان نے اپنی پیرنی سے شادی کر لی ہے تو یہ چیز ہمارے لیے ایک ناقابل قبول فیکٹ کے طور پر سامنے آئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم نے بہت سی روحانی شخصیات سے بھی رابطہ کیا کہ روحانیت کس طرح کام کرتی ہے، جادو ٹونہ کس طرح سے ہوتا ہے تو اکثریت نے کہا کہ ہم لوگ جس طرح بھی ہیں لیکن ہمارا مریدین کے ساتھ تعلق بہت ہی محتاط ہوتا ہے لیکن یہاں پر تو پیر نے مرید سے شادی کر لی ہے تو ہم اس کو نہیں مانتے۔
سابق کپتان سرفراز احمد کو پی سی بی میں نئی ذمے داریاں مل گئیں
بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے پاس ایسے ذرائع تھے جو انہیں معلومات فراہم کرتے تھے، اگر ان کے پاس روحانی طاقت ہوتی تو ان کا، عمران خان، پی ٹی آئی کا اور ان کی حکومت کا وہ حال نہ ہوتا جو اب ہوچکا ہے، انہوں نے عوامی طور پر اور سیاسی طور پر کوئی چیز حاصل نہیں کی، میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ حکومت پاکستان کے روز مرہ کے معاملات، تقرر و تبادلے، آنا جانا اور ملنا ملانا ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہونے لگی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ آبادی والے ایک جوہری ملک کا سربراہ جو کہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ ان کی پارٹی سب سے زیادہ عوامی مقبول اور سب سے بڑی پارٹی ہے، وہ اپنی حکومت کے فیصلے جادو اور روحانیت کی بنیاد پر کررہے تھے، یہ چیزیں ہمارے لیے بہت ہی حیران کن تھیں۔
اکانومسٹ کی خبردرست، بشریٰ بی بی جنرل فیض کیلئے کام کرتی تھیں، خواجہ آصف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ کہ عمران خان کی بنیاد پر ہمارے لیے انہوں نے کیا تو
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔