اگر صدر ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی آفس قبول کرتے ہیں تو استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا: رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
رانا ثناء اللّٰہ—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور، سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ اگر صدر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے ہیں تو استثنیٰ میں کیا برا ہے؟ البتہ اگر صدر ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی آفس قبول کرتے ہیں تو انہیں استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ اگر کوئی آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کو سزا ملے گی، مشرف اور باجوہ کو کیا مسائل ہوئے ہیں؟ مشرف کے خلاف فیصلہ آیا تو پھر اس فیصلے کا کیا ہوا؟
مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ترمیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم کے خلاف بھی دوران مدت فوجداری مقدمات میں کارروائی نہیں ہو سکے گی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آئینی عہدوں کو پوری دنیا میں عزت دی جاتی ہے، امریکا و برطانیہ کو دیکھ لیں، صدر یا وزیرِ اعظم کی مدتِ عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی عزت و احترام کیا جاتا ہے، یہ ہمارے ہاں ہی رواج ہے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی وزیرِ اعظم یا صدر جیل میں ہوتا ہے۔ اب سارے اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ معرکۂ حق کی جیت سے پوری قوم کا پوری دنیا میں سر بلند ہوا، آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم کسی شخصیت یا سیاسی مقصد کے لیے نہیں کی گئی، آئینی عدالت کے ججوں کے انٹرویو جوڈیشل کمیشن کرے گا، پہلی تعیناتی وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر ہو گی کیونکہ جوڈیشل کمیشن موجود نہیں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل نہیں ہو کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔