Jasarat News:
2026-06-03@02:48:00 GMT

ریاست شخصیات سے نہیں،نظام سے چلتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

ریاست شخصیات سے نہیں،نظام سے چلتی ہے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خوشامد اور چاپلوسی بظاہر نرم گفتاری اور شائستگی کا روپ دھارے ہوتی ہیں، حقیقت میں یہ منافقت کی ایسی شکلیں ہیں جو افراد،معاشرے اور، اداروں کے اعتماد کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔چاپلوس لوگ وقتی مفاد کے لیے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایسے رویے نہ صرف دیانت داری کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ حق گوئی کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔دفاتر، سیاست اور سماجی حلقوں میں چاپلوسی کرنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذاتی فائدے یا عہدے کی خاطر دوسروں کو خوش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں اہلِ کردار اور اہلِ محنت افراد پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ نظام نااہل اور مفاد پرست افراد کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔یہ رویہ صرف افراد نہیں، پوری قوم کے اخلاقی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ خوش آمد اور منافقت وقتی فائدہ تو دیتی سکتی ہیں پرطویل مدت میں اعتماد، سچائی اور انصاف جیسے اقدار کو ختم کر دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سچائی اور اصول پسندی کو فروغ دیں، تاکہ معاشرہ خوش آمد پر نہیں، بلکہ کردار اور صلاحیت پر قائم ہو۔خوش آمدی لوگ آپ کوہمیشہ یہی احساس دلاتے ہیں کہ آپ جیساکوئی نہیں،جوخوبیاں آپ میں ہیں کسی دوسرے میں ہوہی نہیں سکتی،آپ سے بہترتوکوئی ہوہی نہیں سکتاہے،آپ نہیں توکچھ بھی نہیں،آپ کااختیاراورطاقت بے مثال اورلازوال ہیں۔سچ تویہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے علاوہ ہرچیزکوزوال پزیرہونا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکومت ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے باقی سب اقتدار،اختیاراورطاقتیں عارضی ہیں۔

پاکستانی سیاست کی تاریخ میں یہ المیہ سب سے نمایاں اوریکساں دکھائی دیتا ہے کہ اقتدار کی ہوس ہردورمیں جمہوریت کے چہرے کوداغدارکرتی آئی ہے۔ ہمارے سیاست دان، جو خود کو جمہوریت کے ٹھیکیدار اور عوامی نمائندے قرار دیتے نہیں تھکتے، ہمیشہ اقتدار کی غلام گردشوں میں اصولوں کا سودا کرتے نظر آئے ہیں۔ہردورمیں جمہورکے ووٹ کی طاقت کی بجائے طاقتورفوجی عہدیدداروں کی ہاں میں ہاں ملاکرایوان اقتدارمیں پہنچنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ان کے بیانات، وفاداریاں اور نظریات ہمیشہ بدلتے موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ ضیاء الحق کے قدموں میں بیٹھ کر آمریت کو ،اسلامی نظام، کا نام دیتے رہے، تو کبھی جنرل پرویز مشرف کو سومرتبہ،باوردی صدر، بنانے کے لیے پارلیمان میں تالیاں بجاتے دکھائی دیے۔ یہ وہی سیاست دان ہیں جو ہر دور کے طاقتور کے ساتھ کھڑے ہوکر جمہوریت کا خون کرتے رہے ہیں۔ اپنے مفاد کو ملک و قوم کے استحکام کا نام دیتے رہے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں اکثر وہی لوگ کامیاب ٹھہرے جنہوں نے اصولوں کے بجائے موقع پرستی اورخوش آمد کو اپنایا۔

جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیاء الحق،جنرل پرویز مشرف تک ہر فوجی حکمران کے عہد میں ان ہی سیاست دانوں نے چاپلوسی، موقع پرستی اور وقتی مفاد کو ترجیح دی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کی ہوا جہاں بھی چلتی دیکھتا ہے، وہیں کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ کبھی ،تسلسلِ جمہوریت، کے نام پر فوجی مداخلت کو جائز قرار دیتا ہے، تو کبھی قومی مفاد کے نام پر اپنی وفاداریاں بدل لیتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب کسی فرد کو ادارے سے بڑا بنا دیا جائے تو ادارے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ماضی میں بھی یہی ہوا۔جنرل ایوب خان کے دور میں ،ترقی، کے نام پر ادارے کمزور کیے گئے، جنرل ضیاء کے دور میں ،،اسلامی نظام،، کے نام پر آئین کو معطل کیا گیا، اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں ،ترقی یافتہ پاکستان،کا نعرہ لگا کر جمہوری عمل کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ہر دور میں سیاست دانوں نے اس کھیل میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہی سیاست دان جو آج جمہوریت کے چیمپئن بنتے ہیں، کل انہی آمروں کے قصیدے پڑھتے تھے۔ کسی نے ضیاء الحق کو ،مردِ مومن، مردِ حق، کہا، کسی نے جنرل پرویزمشرف کو ،محسن پاکستان، قرار دیا۔اب جب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے اختیارات اور مراعات میں 27ویں ترمیم کے تحت اضافہ کیا جارہاہے تو ایک بار پھر یہی خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ کہیں تاریخ خود کو دہرانے نہ لگے۔

آج جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل ہیں، کل کوئی اور ہوگا۔ آج جو حکمران اقتدار میں ہیں، کل ان کی جگہ نئے چہرے ہوں گے۔ ادارے مضبوط ہوں تو نہ قیادت کی تبدیلی نقصان دیتی ہے، نہ پالیسی کا تسلسل ٹوٹتا ہے۔ماضی میں ہم نے دیکھا کہ ہر آرمی چیف کے جانے کے بعد نیا چیف اپنی حکمتِ عملی لے کر آتا ہے اور، ادارہ ایک نئے رخ پر چل نکلتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قومی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔اس وقت پاکستان کو شخصیات نہیں، ادارہ جاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے تجربے اور بصیرت کو افواجِ پاکستان کی پالیسیوں کا مستقل حصہ بنانا چاہیے تاکہ آنے والی قیادت اس تسلسل کو برقرار رکھ سکے۔ اس سے نہ صرف فوج مضبوط ہوگی بلکہ ریاستی نظام بھی مستحکم ہوگا۔جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے، ان کی اقتدار کی سیاست اب عوام پر آشکار ہوچکی ہے۔ وہ جمہوریت کے نام پر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔ان کے نزدیک عوام صرف ووٹ دینے والے ہاتھ ہیں،قوم نہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کے لیے کبھی وردی والوں سے مصافحہ کرتا ہے اور کبھی عوام کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ ان کے کردار کی کمزوری ہی ریاستی اداروں کو غیر متوازن کرتی ہے۔یہ سچ ہے کہ پاکستان کے دفاعی استحکام میں فوج کا کردار بنیادی ہے پریہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کا وقار اس وقت مزید بلند ہوگا جب سیاست دان اپنی ذمہ داری نبھائیں گے اور ریاست کو ذاتی مفاد کی بجائے قومی نظریے کے تحت چلائیں گے۔

اقتدار کے طلبگار سیاست دانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ وہ ہر دور میں آمریت کا سہارا لیتے رہے جس کا انجام اقتدارکے فوری بعد ہمیشہ شرمندگی اور ناکامی رہا۔ ریاستوں کی بنیادیں شخصیات سے نہیں، اداروں سے قائم رہتی ہیں۔آج ہم اداروں کو مضبوط کریں، فوجی و سیاسی قیادت اپنی حدود میں رہ کر ملک کے لیے کام کرے، تو پاکستان وہ منزل حاصل کر سکتا ہے جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔یہ وقت ایک نئے عزم، نئی سوچ اور مضبوط اداروں کے قیام کا متقاضی ہے۔

امتیاز علی شاکر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاست دانوں جمہوریت کے اقتدار کی سیاست دان کے نام پر کے لیے ہیں جو

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد