Jasarat News:
2026-07-24@04:47:23 GMT

ریاست شخصیات سے نہیں،نظام سے چلتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

ریاست شخصیات سے نہیں،نظام سے چلتی ہے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خوشامد اور چاپلوسی بظاہر نرم گفتاری اور شائستگی کا روپ دھارے ہوتی ہیں، حقیقت میں یہ منافقت کی ایسی شکلیں ہیں جو افراد،معاشرے اور، اداروں کے اعتماد کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔چاپلوس لوگ وقتی مفاد کے لیے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایسے رویے نہ صرف دیانت داری کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ حق گوئی کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔دفاتر، سیاست اور سماجی حلقوں میں چاپلوسی کرنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذاتی فائدے یا عہدے کی خاطر دوسروں کو خوش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں اہلِ کردار اور اہلِ محنت افراد پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ نظام نااہل اور مفاد پرست افراد کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔یہ رویہ صرف افراد نہیں، پوری قوم کے اخلاقی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ خوش آمد اور منافقت وقتی فائدہ تو دیتی سکتی ہیں پرطویل مدت میں اعتماد، سچائی اور انصاف جیسے اقدار کو ختم کر دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سچائی اور اصول پسندی کو فروغ دیں، تاکہ معاشرہ خوش آمد پر نہیں، بلکہ کردار اور صلاحیت پر قائم ہو۔خوش آمدی لوگ آپ کوہمیشہ یہی احساس دلاتے ہیں کہ آپ جیساکوئی نہیں،جوخوبیاں آپ میں ہیں کسی دوسرے میں ہوہی نہیں سکتی،آپ سے بہترتوکوئی ہوہی نہیں سکتاہے،آپ نہیں توکچھ بھی نہیں،آپ کااختیاراورطاقت بے مثال اورلازوال ہیں۔سچ تویہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے علاوہ ہرچیزکوزوال پزیرہونا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکومت ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے باقی سب اقتدار،اختیاراورطاقتیں عارضی ہیں۔

پاکستانی سیاست کی تاریخ میں یہ المیہ سب سے نمایاں اوریکساں دکھائی دیتا ہے کہ اقتدار کی ہوس ہردورمیں جمہوریت کے چہرے کوداغدارکرتی آئی ہے۔ ہمارے سیاست دان، جو خود کو جمہوریت کے ٹھیکیدار اور عوامی نمائندے قرار دیتے نہیں تھکتے، ہمیشہ اقتدار کی غلام گردشوں میں اصولوں کا سودا کرتے نظر آئے ہیں۔ہردورمیں جمہورکے ووٹ کی طاقت کی بجائے طاقتورفوجی عہدیدداروں کی ہاں میں ہاں ملاکرایوان اقتدارمیں پہنچنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ان کے بیانات، وفاداریاں اور نظریات ہمیشہ بدلتے موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ ضیاء الحق کے قدموں میں بیٹھ کر آمریت کو ،اسلامی نظام، کا نام دیتے رہے، تو کبھی جنرل پرویز مشرف کو سومرتبہ،باوردی صدر، بنانے کے لیے پارلیمان میں تالیاں بجاتے دکھائی دیے۔ یہ وہی سیاست دان ہیں جو ہر دور کے طاقتور کے ساتھ کھڑے ہوکر جمہوریت کا خون کرتے رہے ہیں۔ اپنے مفاد کو ملک و قوم کے استحکام کا نام دیتے رہے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں اکثر وہی لوگ کامیاب ٹھہرے جنہوں نے اصولوں کے بجائے موقع پرستی اورخوش آمد کو اپنایا۔

جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیاء الحق،جنرل پرویز مشرف تک ہر فوجی حکمران کے عہد میں ان ہی سیاست دانوں نے چاپلوسی، موقع پرستی اور وقتی مفاد کو ترجیح دی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کی ہوا جہاں بھی چلتی دیکھتا ہے، وہیں کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ کبھی ،تسلسلِ جمہوریت، کے نام پر فوجی مداخلت کو جائز قرار دیتا ہے، تو کبھی قومی مفاد کے نام پر اپنی وفاداریاں بدل لیتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب کسی فرد کو ادارے سے بڑا بنا دیا جائے تو ادارے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ماضی میں بھی یہی ہوا۔جنرل ایوب خان کے دور میں ،ترقی، کے نام پر ادارے کمزور کیے گئے، جنرل ضیاء کے دور میں ،،اسلامی نظام،، کے نام پر آئین کو معطل کیا گیا، اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں ،ترقی یافتہ پاکستان،کا نعرہ لگا کر جمہوری عمل کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ہر دور میں سیاست دانوں نے اس کھیل میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہی سیاست دان جو آج جمہوریت کے چیمپئن بنتے ہیں، کل انہی آمروں کے قصیدے پڑھتے تھے۔ کسی نے ضیاء الحق کو ،مردِ مومن، مردِ حق، کہا، کسی نے جنرل پرویزمشرف کو ،محسن پاکستان، قرار دیا۔اب جب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے اختیارات اور مراعات میں 27ویں ترمیم کے تحت اضافہ کیا جارہاہے تو ایک بار پھر یہی خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ کہیں تاریخ خود کو دہرانے نہ لگے۔

آج جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل ہیں، کل کوئی اور ہوگا۔ آج جو حکمران اقتدار میں ہیں، کل ان کی جگہ نئے چہرے ہوں گے۔ ادارے مضبوط ہوں تو نہ قیادت کی تبدیلی نقصان دیتی ہے، نہ پالیسی کا تسلسل ٹوٹتا ہے۔ماضی میں ہم نے دیکھا کہ ہر آرمی چیف کے جانے کے بعد نیا چیف اپنی حکمتِ عملی لے کر آتا ہے اور، ادارہ ایک نئے رخ پر چل نکلتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قومی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔اس وقت پاکستان کو شخصیات نہیں، ادارہ جاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے تجربے اور بصیرت کو افواجِ پاکستان کی پالیسیوں کا مستقل حصہ بنانا چاہیے تاکہ آنے والی قیادت اس تسلسل کو برقرار رکھ سکے۔ اس سے نہ صرف فوج مضبوط ہوگی بلکہ ریاستی نظام بھی مستحکم ہوگا۔جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے، ان کی اقتدار کی سیاست اب عوام پر آشکار ہوچکی ہے۔ وہ جمہوریت کے نام پر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔ان کے نزدیک عوام صرف ووٹ دینے والے ہاتھ ہیں،قوم نہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کے لیے کبھی وردی والوں سے مصافحہ کرتا ہے اور کبھی عوام کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ ان کے کردار کی کمزوری ہی ریاستی اداروں کو غیر متوازن کرتی ہے۔یہ سچ ہے کہ پاکستان کے دفاعی استحکام میں فوج کا کردار بنیادی ہے پریہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کا وقار اس وقت مزید بلند ہوگا جب سیاست دان اپنی ذمہ داری نبھائیں گے اور ریاست کو ذاتی مفاد کی بجائے قومی نظریے کے تحت چلائیں گے۔

اقتدار کے طلبگار سیاست دانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ وہ ہر دور میں آمریت کا سہارا لیتے رہے جس کا انجام اقتدارکے فوری بعد ہمیشہ شرمندگی اور ناکامی رہا۔ ریاستوں کی بنیادیں شخصیات سے نہیں، اداروں سے قائم رہتی ہیں۔آج ہم اداروں کو مضبوط کریں، فوجی و سیاسی قیادت اپنی حدود میں رہ کر ملک کے لیے کام کرے، تو پاکستان وہ منزل حاصل کر سکتا ہے جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔یہ وقت ایک نئے عزم، نئی سوچ اور مضبوط اداروں کے قیام کا متقاضی ہے۔

امتیاز علی شاکر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاست دانوں جمہوریت کے اقتدار کی سیاست دان کے نام پر کے لیے ہیں جو

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری