عرفان صدیقی اعلیٰ شخصیت کے حامل انسان تھے، انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی اعلیٰ اوصاف کے حامل انسان تھے، جنہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا، ان کے کالمز اور تحریریں جاندار ہوتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عرفان صدیقی جب بھی ملتے تھے تو کہتے تھے کیا چل رہا ہے، وہ ہمیں موجودہ حالات سے متعلق مشورے دیتے، ہماری کوتاہی پر ہمیں مشورتے دیتے اور ہماری رہنمائی کرتے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ان کی عرفان صدیقی سے پہلی ملاقات 90 کی دہائی میں اس وقت ہوئی جب ان کا کالم نوائے وقت میں روزانہ چھپتا تھا، ان کی تحریریں اور کالمز جاندار ہوتے تھے، ہم نے بہت سے کالمز پڑھے لیکن جو جذبہ عرفان صدیقی کی تحروں میں ہوتا تھا، ان نے ہمیں اپنی تقریروں اور سیاسی زندگی میں بے پناہ مدد دی۔
یہ بھی پڑھیں: عرفان صدیقی انتہائی مخلص اور بااعتماد ساتھی تھے، وفات پر دلی رنج ہوا، نواز شریف
انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی اعلیٰ شخصیت کے حامل تھے، ان کا شمار نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، وہ اتنے بڑے انسان تھے کہ میں نے کبھی ان کو غصے میں نہیں دیکھا اور نہ کبھی ان کو ناامید یا مایوس دیکھا، جیسے بھی حالات ہوتے وہ بڑے حوصلے میں ہوتے اور بڑی مدلل اور پرفہم گفتگو کرتے، ان کو کسی کے خلاف بات کرتے سنا نہ کبھی ان کو غصے میں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی کی موت سے مسلم لیگ ن اور ہم سب ایک عظیم انسان اور رہنما سے محروم ہوگئے، اللہ تعالی ان کی مغرت کرے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news تعزیتی ریفرنس رانا ثنااللہ سینٹرعرفان صدیقی قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعزیتی ریفرنس رانا ثنااللہ سینٹرعرفان صدیقی قومی اسمبلی رانا ثنااللہ عرفان صدیقی نے کہا
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔