شاہزیب خانزادہ کی ویڈیو بنانے والے شاہد بھٹی کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ عطااللہ تارڑ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
معروف اینکر شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شخص کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ہراساں کرنے والے شخص کا سراغ لگا لیا ہے، ملزم گجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے اور کینیڈا میں بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کام کرتا ہے
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ میں لوگ مشتعل ہیں اور وہ اس شخص کے گھر جانا چاہتے تھے لیکن ہم نے انہیں روکا کہ یہ سلسلہ ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد بھٹی پی ٹی آئی کا رکن ہے۔ اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مثال قائم کریں گے۔
شاہ زیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شخص کا سراغ لگا لیا ہے، تعلق گجرانوالہ سے ہے، کینڈا میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور پی ٹی آئی کے رکن ہیں، قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔۔ مثال قائم کریں گے۔۔ گوجرانوالہ میں لوگ مشتعل ہیں اور اس شخص کے گھر جانا چاہتے تھے ہم نے روکا کہ یہ… pic.
— Asma Shirazi (@asmashirazi) November 18, 2025
وفاقی وزیر اطلاعات کے اس بیان پر شاہد بھٹی نے کہا کہ عطا تارڑ نے جو کرنا ہے کر لے۔ میں ان کو جانتا ہوں کہ یہ کون ہے، یہ خاندانی چور ہیں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جیسے حسینہ واجد عبرت کا نشان بنی ہے ویسے ہی یہ بنیں گے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بدتمیزی کیوں کی؟ ویڈیو بنانے والے شاہد بھٹی نے پہلی بار ساری کہانی بیان کردی
واضح رہے کہ معروف اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے چاہنے والوں کی جانب سے بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص شاہزیب خانزادہ کو کہہ رہا ہے کہ آپ نے عمران خان کے خلاف جو کیا اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہزیب خانزادہ کے بعد طلعت حسین کو بھی ہراسانی کا سامنا، انہوں نے کیا کارروائی کی؟
شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے والا شخص مزید کہتا ہے کہ عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی آپ لوگوں نے جو کچھ کیا اس پر بھی شرم محسوس کرنی چاہیے۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سینیئر صحافیوں سمیت تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شاہزیب خانزادہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شاہد بھٹی شاہزیب خانزادہ عطا تارڑ وفاقی وزیر اطلاعات ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاہد بھٹی شاہزیب خانزادہ عطا تارڑ وفاقی وزیر اطلاعات ویڈیو وائرل شاہزیب خانزادہ کے خانزادہ کو شاہد بھٹی عطا تارڑ کے ساتھ نے والے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ