اسلام ٹائمز: ان کی بات جب نکلتی ہے، تو وہ صرف سننے والے کے کان تک نہیں جاتی، وہ قلبِ انسانی میں داخل ہوتی ہے۔ یہی وہ روحانی تصرف ہے جس نے مقاومت کو ایک عالمی تحریک میں بدل دیا، اور جس نے مظلوموں کی فریاد کو دنیا کے انصاف پسندوں کی زبان بنا دیا۔ غزہ کی فریاد، لندن کے احتجاج میں گونجتی ہے، قم کی دعا، نیویارک کے دل میں اثر ڈالتی ہے۔ یہی ولایت کا فیضان ہے، جو فاصلوں کو مٹا کر روحوں کو جوڑ دیتا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

دنیا کے شور و شر، میڈیا کے فریب اور سیاست کے زہر میں ڈوبے اس دور میں، ایک خاموش مگر گہرا روحانی مکالمہ برپا ہوا، ایک ایسا مکالمہ جس نے لفظوں سے زیادہ دلوں کو متاثر کیا، اور منطق سے بڑھ کر ضمیر کو جگایا۔ یہ مکالمہ کسی سفارتی بیان یا سیاسی نعرے کا نتیجہ نہیں تھا، یہ ولایت کی روحانی تجلی تھی، جو سید علی خامنہ‌ای کے قلب سے نکلی اور انسانیت کے شعور میں سرایت کر گئی۔

غزہ کی فریاد، ایک امام کی صدا، جب غزہ میں خون بہہ رہا تھا، جب بچوں کی لاشوں پر دنیا کی طاقتیں خاموش تھیں، تب ایک صدا ایران سے اٹھی، پُرسوز مگر پرعزم، نرم مگر برہم کہ غزہ، انسانیت کا امتحان ہے۔ یہ جملہ تاریخ کے ریکارڈ پر ایک سیاسی تبصرہ نہیں تھا، یہ روحانی کلمہ تھا، جس نے مشرق و مغرب کے درمیان ایک ضمیر کی رگ کو چھو لیا۔ اسی لمحے دنیا نے محسوس کیا کہ مزاحمت اب عربوں، ایرانیوں یا مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ انسان ہونے کا تقاضا بن چکی ہے۔

اسی صدا کے زیرِ اثر، مغرب کی گلیوں میں وہ لوگ نکلے جو کبھی فلسطین کا نام بھی نہیں جانتے تھے۔ نیویارک، لندن، برلن اور پیرس میں "Free Gaza" کے نعروں کے پیچھے اب ایک نیا شعور چھپا ہے، ایک شعور جو ولایت کی روشنی سے بیدار ہوا ہے۔ خطوط جو تاریخ کے سینے پر ثبت ہو گئے، جب رہبرِ انقلاب نے مغربی نوجوانوں کو مخاطب کر کے لکھا کہ اسلام کو قرآن سے پہچانو، میڈیا سے نہیں۔ تو یہ محض دعوت نہیں تھی، یہ روحانی مکالمہ تھا۔

یہ خطوط نہ کسی حکومت کے ذریعے شائع کیے گئے، نہ کسی پروپیگنڈا مشین نے ان کی تشہیر کی، مگر ان کے الفاظ نے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا۔ وہ نوجوان جو کبھی اسلام کو دہشت کے پردے میں دیکھتے تھے، اب وہ قرآن کھول کر حقیقت تلاش کر رہے ہیں۔ یہی مکالمہ، یہی خاموش انقلاب ہے، جس نے مغرب کی فکری بنیادوں کو چیلنج کر دیا۔ تصرفِ ولایت، ایسا اثر جو عقل سے نہیں، روح سے پہنچتا ہے، سید علی خامنہ‌ای کی قیادت کی اصل طاقت ان کے بیانات یا حکمتِ سیاسی میں نہیں، بلکہ ان کی باطنی تاثیر میں ہے۔

ان کی بات جب نکلتی ہے، تو وہ صرف سننے والے کے کان تک نہیں جاتی، وہ قلبِ انسانی میں داخل ہوتی ہے۔ یہی وہ روحانی تصرف ہے جس نے مقاومت کو ایک عالمی تحریک میں بدل دیا، اور جس نے مظلوموں کی فریاد کو دنیا کے انصاف پسندوں کی زبان بنا دیا۔ غزہ کی فریاد، لندن کے احتجاج میں گونجتی ہے، قم کی دعا، نیویارک کے دل میں اثر ڈالتی ہے۔ یہی ولایت کا فیضان ہے، جو فاصلوں کو مٹا کر روحوں کو جوڑ دیتا ہے۔

عالمی بیداری، ظہور کی سمت بڑھتا ہوا شعور ہے، یہ بیداری، جو اب ہر براعظم میں محسوس ہو رہی ہے، ظاہر میں سادہ ہے، مگر باطن میں مہدوی الہام رکھتی ہے۔ دنیا ظلم سے بیزار ہے، انسان عدل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اور یہ تلاش خود اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو صدیوں پہلے کیا گیا تھا کہ “اور ہم چاہتے ہیں کہ زمین کے کمزوروں کو اس کا وارث بنائیں۔” (القصص: ۵)۔ رہبرِ انقلاب کے کلمات اس وعدے کے عملی مقدمہ ہیں۔ انہوں نے دنیا کے نوجوانوں کو بتایا کہ عدل کا ظہور آسمان سے نہیں اترے گا، بلکہ انسانوں کے بیدار ضمیروں سے اُبھرے گا۔ 

روحانی صدا جو اب خاموش نہیں ہو سکتی، سید علی خامنہ‌ای کا یہ روحانی مکالمہ ایک فرد کا خطاب نہیں، بلکہ تاریخ کا الٰہامی لمحہ ہے۔ یہی وہ صدا ہے جس نے غزہ کی مٹی سے انسانیت کے ضمیر تک رسائی حاصل کی، اور جس نے مغرب کے دلوں میں حق کی محبت کے بیج بو دیے۔ یہ مکالمہ اب ختم نہیں ہوگا۔ یہ آگے بڑھے گا، ہر احتجاج، ہر دعا، ہر فریاد، ہر بیداری میں۔ یہی وہ لہریں ہیں جو زمین کو تیار کر رہی ہیں، اس دن کے لیے جب عدلِ موعود ظاہر ہوگا، اور انسانیت، ولایت کی روشنی میں اپنی اصل منزل پا لے گی۔

ہاں، یہ وہی روحانی مکالمہ ہے، جس نے دنیا بدل دی، اور ابھی پوری طرح بدلنی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید علی خامنہ ای روحانی مکالمہ کی فریاد دنیا کے غزہ کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف