شاہ لطیف میں ملزم سے 30کلو کی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق کی ہدایت پر پولیس کی منشیات فروشوں اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ شاہ لطیف پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شفیع گوٹھ کے علاقے سے منشیات کی بڑی کھیپ برآمد کرلی۔ گرفتار ملزم مقصود ولد یار محمدکے قبضے سے 30 کلو گرام سے زائد اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد ہوئی جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی گئی ہے۔ ایس ایس پی ملیر کے مطابق ملزم منشیات مختلف علاقوں میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور نوجوان نسل کو تباہی کی جانب دھکیل رہا تھا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران منشیات فروشی کے نیٹ ورک کو بھی توڑ دیا۔ میمن گوٹھ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور ہاؤس رابری میں ملوث گروہ کو بے نقاب کیا۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ 11 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا۔ گزشتہ ماہ 24 اکتوبر کو پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو عامر ہلاک اور اس کا ساتھی زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔