خاتون جنت کی صداقت کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
جیکب آباد میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ اہلبیتؑ کی محبت ایمان کا حصہ اور ان سے بغض، گمراہی کی علامت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ انبیاء لاوارث نہیں ہوتے۔ انبیاء اپنی اولاد کو وراثت دیتے ہیں۔ یہی قرآن کا فیصلہ ہے اور یہی اہلِ بیتؑ کا موقف۔ لہٰذا سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حقِ فدک قرآن و سنت کی روشنی میں مسلم اور واضح ہے۔ آلِ محمدؐ نہ صرف حق پر ہیں، بلکہ وہی حق و صداقت کا معیار ہیں۔ دین انہی کے ذریعے سمجھا جاتا ہے اور انہی کے ذریعے محفوظ رہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے ایام شہادت کی مناسبت پر درگاہ سید صفر علی شاہ عرف دادا بابا پر منعقدہ سالانہ مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت، طہارت اور صداقت کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے۔ سورۃ الاحزاب، سورۃ الدہر اور آیت تطہیر اہلِ بیتؑ کی پاکیزگی اور مقام عصمت کو براہ راست ثابت کرتی ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "فاطمہ سیدۃ نساء العالمین"، "فاطمہؑ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔" یہی وجہ ہے کہ سیدہ کائنات کی ذات گرامی پوری امت کے لیے رشد و ہدایت اور دین کی اصل روح تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ جو افراد سیدہ کی عصمت، مقام اور صداقت سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں قرآن اور رسول اللہؐ کی شہادت کا انکار کرتے ہیں۔ اہلبیتؑ کی محبت ایمان کا حصہ اور ان سے بغض، گمراہی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیدہ کا حقِ فدک کے حصول کے لیے دربار میں جانا تاریخ انسانیت کا سب سے دلخراش واقعہ ہے۔ یہ واقعہ انسانیت کے ہر حساس دل رکھنے والے فرد کے لیے درد اور غم کا سبب ہے۔ سیدہ کے خطبہ فدکیہ نے حق و باطل کے معیار کو واضح کیا۔ علامہ ڈومکی نے واضح کیا کہ قرآن کریم میں انبیاء کی وراثت کو واضح کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کا حضرت داؤدؑ کے وارث ہونا، اور حضرت یحییٰؑ کا حضرت زکریاؑ کے وارث ہونا قرآن کی صریح آیات ہیں۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ انبیاء لاوارث نہیں ہوتے۔ انبیاء اپنی اولاد کو وراثت دیتے ہیں۔ یہی قرآن کا فیصلہ اور یہی اہلِ بیتؑ کا موقف ہے۔ لہٰذا سیدہ فاطمہؑ کا حقِ فدک قرآن و سنت کی روشنی میں مسلم اور واضح ہے۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ آلِ محمدؐ نہ صرف حق پر ہیں، بلکہ وہی حق و صداقت کا معیار ہیں۔ دین انہی کے ذریعے سمجھا جاتا ہے اور انہی کے ذریعے محفوظ رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود ڈومکی ڈومکی نے کہا کہ انہی کے ذریعے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔