واشنگٹن:

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام جنگ کے دوران غزہ میں اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے فلسطینیوں کوڈھال کے طور استعمال کرنے کے لیے بارودی سرنگوں میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال امریکا کو ایسی خفیہ معلومات ملی تھیں، جن میں اسرائیلی حکام اس بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ ان کے فوجیوں نے فلسطینیوں کو غزہ کی ان سرنگوں میں بھیجا جن کے بارے میں اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ ان میں ممکنہ طور پر بارودی مواد موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کو ملنے والی یہ خفیہ معلومات وائٹ ہاؤس کو بھیج دی گئی تھیں اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے آخری ہفتوں کے دوران امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مذکورہ معلومات کا تجزیہ کیا۔

بین الاقوامی قانون فوجی کارروائی کے دوران شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے عہدیدار طویل عرصے سے ان خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجی ممکنہ طور پر غزہ میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے فلسطینیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ 2024 کے آخری مہینوں میں جمع کی گئی امریکی انٹیلی جنس نے وائٹ ہاؤس اور انٹیلی جنس اداروں کے اندر یہ سوالات اٹھائے کہ یہ حربہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا تھا اور کیا اسرائیلی فوجی اپنے سینیئرز کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے یا انہیں کسی بھی طرح فوجی کارروائیوں میں شامل کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ فوج کے فوجداری تحقیقاتی شعبے نے فلسطینیوں کو کارورائیوں میں ڈھال بنانے سے متعلق شبہات کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو شروع کی گئیں وحشیانہ کارروائیوں میں غزہ میں اب تک 69,000 فلسطینیوں کو شہید اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو زخمی اور لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق انٹیلی جنس ان کئی معلومات کا حصہ تھی جو بائیڈن انتظامیہ کے آخری مراحل کے دوران حکومتی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں اور یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں جب امریکی انٹیلی جنس اسرائیلی فوجی طرز عمل سے متعلق اندرونی مشاورت پر مبنی نئی معلومات کا تجزیہ تیزی سے کر رہی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی عرصے میں بائیڈن انتظامیہ نے یہ انٹیلی جنس بھی حاصل کی تھی کہ اسرائیلی فوجی وکلا نے خبردار کیا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کو تقویت دے سکتے ہیں۔

سابق امریکی حکام نے کہا کہ اسرائیل کے اندر سے موصول ہونے والی نئی انٹیلی جنس نے اعلیٰ حکام کو سنگین تشویش میں مبتلا کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ معلومات امریکی حکومت کے اندر بعض افراد کے ان الزامات کی تائید کرتی ہیں کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قراردیا جاتا تو امریکا کو اسرائیلی فوج کو ہتھیار فراہم کرنے پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا تھا اور اس صورت میں امریکا کو اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ روکنا بھی پڑسکتا تھا۔

سابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے آخری دنوں میں موصول ہونے والی مجموعی انٹیلی جنس صرف غزہ میں انفرادی واقعات کی نشان دہی کررہی تھی اور یہ اسرائیلی پالیسی یا عمومی طرز عمل سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بائیڈن انتظامیہ اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کو استعمال کرنے اسرائیلی فوج انتظامیہ کے امریکی حکام کہ اسرائیلی ڈھال کے طور انٹیلی جنس پر استعمال استعمال کر کہ اسرائیل یہ معلومات معلومات کا رپورٹ میں کے دوران کے آخری گیا کہ کر رہے تھا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف