اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور ،چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پاکستان کے پہلے مکمل کیش لیس کیے جانے والےہفتہ وار بازار H-9 کاافتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں ممبر فنانس، چیف آفیسر ایم سی آئی، سی ای او زندگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ سمیت کثیر تعداد میں صارفین اور تاجروں کی شرکت کی ۔
اسلام آباد کے سیکٹر H-9 میں قائم ہفتہ وار بازار میں باقاعدہ طور پر مکمل کیش لیس نظام کو نافذ العمل کردیا گیا ۔
چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ممبر فنانس اور چیف آفیسر ایم سی آئی کے ہمراہ سیکٹر H-9 بازار میں موجود اسٹالز سے کیش لیس طریقے کار کے مطابق ادائیگی بھی کی۔
چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صارفین/ شہریوں کو ڈیجیٹل طریقہ کار کے مطابق ادائیگیوں پر خصوصی رعایات بھی فراہم کی جا رہی ہیں،
کیش لیس نظام کو شہر کے تمام کمرشل مراکز اور شاپنگ سینٹرز، سمیت ہسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر بھی متعارف کروایا جارہا ہے،
چیئرمین سی ڈی اے نے زندگی کے سی ای او نعمان، ایم سی آئی، مرکزی و کمرشل بنکس کے نمائندگان سمیت اسلام آباد انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ کے وژن کے مطابق شہریوں اور صارفین کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس احسن قدم کا آغاز کردیا گیا ہے،
ان اقدامات کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانا ہے،
کیش لیس نظام نہ صرف ای-گورننس کے ماڈل کو اپنائے گا بلکہ عوام کو آسان، محفوظ، تیز اور شفاف ترین ادائیگیوں کی سہولیات بھی فراہم کرے گا،
اس نظام سے شہریوں/ صارفین کو لین دین میں نہ صرف آسانی ہونگی بلکہ دارالحکومت اسلام آباد میں کیش لیس معیشت کو بھی فروغ ملے گا، محمد علی رندھاوا
انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کی کامیابی کیلئے بینکوں کو صارفین اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور رعایت بھی دینا ہوگی،
چیئرمین سی ڈی اے نے
تمام اسٹال ہولڈرز کے لائسنسز اور نرخ نامے ڈیجیٹل بورڈز پر نمایاں طور پر آویزاں کئے جائیں،
چیئرمین سی ڈی اے نے بازار انتظامیہ کو کیش لیس نظام کے حوالے سے بھرپور عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی ۔
چیئرمین سی ڈی اے نے H-9 بازار میں خریداری کی عرض سے آئے ہوئے صارفین کو کیش لیس لین دین کے افادیت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کیش لیس نظام اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے لین دین کا بنیادی مقصد شہریوں اور تاجروں دونوں کو یکساں فوائد پہنچانا ہے،
ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو کیش لیس و ڈیجیٹل نظام کے ذریعہ ہر قسم کے مالی لین دین کو محفوظ بنانا سمیت فراڈ و دھوکہ دہی سے بچانا ہے،
سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں کامیابی کیساتھ کیش لیس نظام کو نافذ العمل کرنا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے،
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کو بین الاقوامی شہر بنانے کے مقاصد کے حصول کیلئے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہے،
انہوں نے کہا کہ آئیے!! ہم سب ملکر اس تاریخی اقدام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اسلام آباد کو مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنائیں،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم پاکستان کا دورہ کرینگے اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم پاکستان کا دورہ کرینگے وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقرری، 3 نے حلف اٹھا لیا اسلام آباد کچہری خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشتگرد سیل کے 4 ارکان گرفتار ستائیسویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ، صدارتی آرڈر جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر اسلام ا باد کو کو کیش لیس
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)