پاکستان ہاکی فیڈریشن کا از خود انتخابات کرانے کا دعویٰ مسترد
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزارت بین الصوبائی رابطہ امور نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے از خود انتخابات کرانے کا دعویٰ مستردکردیا۔
تفصیلات کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی ہدایت پر پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ہاکی فیڈریشن کے انتخابات از خود کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات تین ممبران پر مشتمل ایک آزاد الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کرائے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن چیئرمین سمیت دو ممبران پی ایس بی ایک ممبر پی ایچ ایف نامزد کرے گا۔
ایف آئی ایچ، اے ایچ ایف سے انتخابی عمل کی نگرانی کی درخواست کی جائے گی۔
پی ایچ ایف کی طرف سے قائمہ کمیٹی کے سامنے جمع کرائی گئی کلبوں کی فہرست کی جانچ پڑتال ایک اسکروٹنی کمیٹی کرے گی۔
اسکروٹنی کمیٹی میں پی ایس بی، صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن، صوبائی اسپورٹس بورڈ یا متعلقہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفس کا ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے بعد اسکروٹنی کمیٹی اپنے کام کا شیڈول جاری کرے گی۔
ہاکی کلبوں اور ایسوسی ایشنز کی قانونی حیثیت کا پتہ لگانے کے لیے جانچ پڑتال کے معیار کی منظوری پی ایس بی صوبائی اسپورٹس بورڈز کے ساتھ مشاورت سے کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہاکی فیڈریشن پی ایس بی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔