سوشل میڈیا پر من گھڑت پروپیگنڈا، صوبائی منافرت پھلانے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ورک و وزٹ ویزوں پر بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو امیگریشن کی جانب سے آف لوڈ کیے جانے کے متعلق سوشل میڈیا پر من گھڑت پراپگنڈہ کرنے اور صوبائی منافرت پھلانے میں ملوث عناصر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کے لیے آغاز کردیا۔
ابتداہی طور پر 15 سے زاہد اکاؤنٹس کی نشاندہی بھی کرلی گی، ایف آئی اے نے من گھڑت معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے کاروائی کا آغاز کردیا۔
15 سے زائد اکاؤنٹس منظم و بے بنیاد پراپگنڈہ و صوبائی منافرت پھیلانے میں ملوث پائے گئے، بےبنیاد پروپیگنڈا میں شامل عناصر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے زریعے پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاری ہے۔
ورک اور وزٹ ویزوں پر بیرون ممالک جانے والے پاکستانیوں کو ایئرپورٹس پر روکے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے افواہیں قرار دیکر اہم وضاحت جاری کی تھی۔
ملک بھر کے ائیرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے ورک اور وزٹ ویزوں پر یا پہلی دفعہ بیرون ممالک جانے والوں کی امیگریشن کلیرینس کے دوران سخت پروفائلنگ کا عمل گزشتہ چند ماہ سے جاری ہے۔
اس دوران سفری دستاویزات یا امیگریشن حکام کو مطمئن نہ کر سکنے والوں کو سخت چھان بین سے گزرنا پڑتا ہے اور مختلف پروازوں سے اکا دکا ایسے مسافروں کو آف لوڈ کرکے مسنگ ڈاکو منٹ مکمل کرنے کا کہا جاتا ہے
تاہم ایسے میں اکثر ایسے مسافر کو بھی ٹکٹ کی مد میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی صورتحال پر سوشل میڈیا پر مخلتف پیجز پر امیگریشن کے اس عمل پر شدید تنقید کی جاریی ہے۔
ایف آئی اے نے ایسے تمام تاثر و اطلاعات کو رد کیا ہے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون کیپٹن ر علی ضیا نے ویڈو بیان میں تفصیلی وضاحت کی ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کیپٹن ر علی ضیا کے مطابق کچھ مخصوص عناصر اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کو بلا وجہ آف لوڈ کیا جا رہا ہے اور بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، حالانکہ اس تمام پراپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
کیپٹن علی ضیا کا کہنا تھا کہ جو مسافر کارآمد ویزے اور مکمل سفری دستاویزات کے ساتھ جا رہے ہوتے ہیں، انہیں نہ روکا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے، بلکہ ایف آئی اے کا عملہ سہولیات فراہم کرتا ہے اور عزت کے ساتھ روانہ کرتا ہے۔
انھوں نے ایئرپورٹس پر حقیقی چیلنج انسانی سمگلروں کا شکار ہونے والے وہ لوگ ہیں جو غلط معلومات یا لالچ میں آکر ٹرانزٹ کے بہانے روٹ تبدیل کرتے ہیں، یا سفر کے دوران اہداف بدل دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ڈیپورٹیشن ہوتی ہے۔
کیپٹن علی ضیا کا مزید کہناتھاکہ انسانی سمگلنگ کے باعث نہ صرف پاکستانی شہری جانوں کے ضیاع اور تاوان کے واقعات کا شکار ہوئے بلکہ اس سے پاکستان کی ساکھ اور گرین پاسپورٹ کی قدر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کی وجہ سے کئی ممالک نے پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی سخت کردی۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے امیگریشن صرف انہی مسافروں کو روکتی ہے جن کے دستاویزات میں کوئی کمی ہو یا جن کے ویزوں اور ورک پرمٹس پر شکوک پائے جائیں، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں متعلقہ ممالک میں کمپنیوں کا وجود ہی نہیں ہوتا یا انسانی سمگلنگ کے خدشات پائے جائیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے واضح کیا کہ آف لوڈنگ کا فیصلہ مکمل تحقیق اور پروفائلنگ کے بعد کیا جاتا ہے، اس لیے مسافروں کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ہزاروں پاکستانی بیرون ملک جاتے اور آتے ہیں۔ جانے والوں کو اللّٰہ حافظ اور آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
اگر کسی کو کوئی شکایت یا معلومات درکار ہوں تو ایف آئی اے کے زونل دفاتر یا ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن سے براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
کیپٹن علی ضیا نے تنبیہ کی کہ کوئی بھی شخص امیگریشن کلیرنس کے نام پر کسی کو رقم نہ دے، کیونکہ اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا مقصد صرف مالی فائدہ اٹھانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ایف آئی اے نے مسافروں کو جاتا ہے علی ضیا ہے اور
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے