data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام کے اسکول حاجی اسماعیل لاکھو میں شاگردو ں میں یونیفارم کی تقسیم سینئرصوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور راول شرجیل میمن ٹنڈوجام کے تعلیمی مسائل پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں چیئرمین حاجی غلام علی گوپانگ تفصیلات کے مطابق گورنمنت پرائمری اسکول حاجی محمد اسماعیل لاکھو میں بچوں میں اسکول یونیفارم تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی ے، اس موقع پر یوسی 58 کے چیئرمین حاجی غلام علی گوپانگ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور راول شرجیل میمن ٹنڈوجام کے تعلیمی اداروں کے مسائل پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ان کی خصوصی ہدایت پر اسکول کے 120 سے زائد طلباہ میں یونیفارم تقسیم کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جلد یوسی کے دیگر اسکولوں میں بھی طلبہ و طالبات میں یونیفارم تقسیم کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسکولوں میں فرنیچر دیا گیا ہے تاکہ ہماری تعلیم بہتر ہو سکے، انہوں نے کہا کہ اسی طرح گاؤں حیدر شاہ ابڑی کی مختلف گلیوں میں پیور بلاک لگایا گیا ہے جبکہ دیگر جلد ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے، اس موقع پر محمد موسیٰ لاکھو، شیر محمد لاکھو، محمد مرید لاکھو، ہیڈ ماسٹر محمد اختر آرائیں، اساتذہ جان محمد لاکھو امجد علی تھیم جازب حسین، نظیر اوڈھ سمیت دیگر موجود تھے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں یونیفارم کہا کہ

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے