ٹنڈوجام، جماعت اسلامی کا قافلہ اجتماع عام میں شرکت کیلیے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام سے عزم ہمت جذبوسے بھرا نظام بدل دو کا قافلہ امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں اجتماع عام میں شرکت کے لیے روانہ ملک پر 78 سال سے حکمرانوں نے دفعہ 144لگا کر عوام کے حقوق غصب کر رکھے ہیں عوام اب اس ظلم کے نظام کو بدل کر دم لے گی، حافظ غیور احمد۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی ٹنڈوجام کا ایک قافلہ امیر جماعت اسلامی ٹنڈوجام حافظ غیور احمد کی اور حلقہ خواتین کا قافلہ ناظمہ جماعت اسلامی ٹنڈوجام شبانہ طارق کی قیادت میں اجتماع جماعت اسلامی پاکستان میں شرکت کے لیے لاہور روانہ ہو گیا۔ اس موقع پر انھوں نے کارکنان سے خطاب کیا کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک پر جمہوریت کے بھیس میں امریت مسلط ہے اور عوام کو اس نے اپنے مفادات کی خاطر پیس کر رکھ دیا ہے جب بھی عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی جاتی ہے تو حمکرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو دفعہ 144یاد آجاتی ہے انھوں اس دفعہ کو ملک پر 78سال سے لگا کر عوام کے حقوق غصب کر رکھے ہیں اب یہ ہمارا عزم وہمت اور جذبو سے بھرا قافلہ اجتماع عام میں نظام بدل دو تحریک میں شامل ہونے جارہا ہے اور جماعت اسلامی پاکستان کے اس اجتماع عام سے ملک میں پریشان صرف ظلم کا نظام قائم کرنے والے ہیں اور اجتماع عام سے ان کی رخصتی کا سفر شروع ہو جائے گا ناظمہ حلقہ خواتین شبانہ طارق اور شازیہ غیور نے کہا کہ خواتین کا کردار ہر انقلاب میں اہم رہا ہے اس اجمتاع میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی جانب اشارہ کر رہی کہ ہم نظام بدل دو تحریک ملک سے ظلم کا نظام ختم کر کے ہی دم لے گی اور خواتین اس تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی میں شرکت
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔