امریکی رپورٹ میں پاکستان کو برتر قرار دینے پر انڈین نیشنل کانگریس برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی اس کامیابی نے چین کے ہتھیاروں کی صلاحیت کو نمایاں کرنے میں مدد کی اور یہ کہ پاکستانی فضائیہ نے چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہندوستان کے تین لڑاکا طیارے مار گرائے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش نے امریکی کانگریس کو پیش کی گئی "یو ایس۔چائنا اکنامک اینڈ سکیورٹی ریویو کمیشن" کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ہندوستان کے لئے بالکل ناقابل قبول بھی ہے۔ ان کے مطابق اس دستاویز نے ہندوستان کی سفارت کاری کو ایک اور "سنگین جھٹکا" پہنچایا ہے۔ یہ کمیشن امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی مشترکہ تشکیل ہے، جس میں بارہ آزاد ارکان شامل ہیں۔ کمیشن کی 2025ء کی سالانہ رپورٹ تقریباً 800 صفحات پر مشتمل ہے۔ جے رام رمیش نے خاص طور پر رپورٹ کے صفحات 108 اور 109 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان حصوں میں کئی تشویشناک دعوے کئے گئے ہیں۔
رپورٹ میں اپریل 2025ء میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، جسے پاکستان کی پشت پناہی میں انجام دیا گیا تھا، کو بغاوت پر مبنی حملہ کہا گیا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ نہ صرف حقیقت کے برخلاف ہے بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہندوستان کی مسلسل کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ جھڑپ میں پاکستان نے ہندوستان پر فوجی برتری حاصل کی۔ کمیشن نے مزید کہا کہ پاکستان کی اس کامیابی نے چین کے ہتھیاروں کی صلاحیت کو نمایاں کرنے میں مدد کی اور یہ کہ پاکستانی فضائیہ نے چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہندوستان کے تین لڑاکا طیارے مار گرائے۔ فرانسیسی انٹیلی جنس نے اس دعوے کو چین کی غلط معلومات پھیلانے کی مہم قرار دیا ہے جس کا مقصد رافیل طیاروں کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں یاد دلایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی 60 مرتبہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے "آپریشن سندور" کو رکوا دیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بیرونی حلقوں میں ایسے دعوے کئے جا رہے ہیں تو وزیراعظم نریندر مودی مکمل خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے وزارتِ خارجہ پر بھی زور دیا کہ وہ اس رپورٹ پر باضابطہ اعتراض درج کرائے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ہندوستان کے مؤقف، اس کی سلامتی اور علاقائی حقائق کی سنگین غلط ترجمانی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے 2025ء میں پاکستان کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری کو وسعت دی، جس سے ہندوستان کے ساتھ اس کے پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔
مزید یہ کہ کمیشن کا ماننا ہے کہ چین نے اسی ماحول میں اپنے دفاعی نظام کی جانچ کے لئے پاکستان کے بحران کو "موقعاتی طور پر" استعمال کیا۔ کمیشن کی رپورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 2025ء کے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے لئے چین کے دورے کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک نے سرحدی کشیدگی میں کمی، اقتصادی تعاون بڑھانے اور براہِ راست پروازیں بحال کرنے جیسے نکات پر بات چیت کی تھی۔ جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ایسی حساس اور ہند مخالف تشریحات کو چیلنج کرنا ہندوستان کے لئے ضروری ہے اور مودی حکومت کو اس پر سخت سفارتی ردعمل دینا چاہیئے تاکہ غلط بیانیوں کو تقویت نہ ملے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہندوستان کے کہ پاکستان رپورٹ میں نے چین کے لئے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔