اسلام ٹائمز: سید توقیر زیدی کے مطابق میں نے دوستوں سے مل کر دو زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالا۔ اس سانحہ میں میرے استاد جمیل بھی شہید ہوگئے تھے، ہمت کی کہ اُستاد محترم کی میت اٹھاوں، ایک مومن ایمبولینس کے اندر گیا اور جمیل احمد استاد کی میت کو میری طرف کیا، میں نے اُٹھانے کی کوشش کی، مگر ٹانگیں اندر سے ٹوٹ چکی تھیں، زندگی میں ایسا درد مولاء کسی شاگرد کو نہ دکھائے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ خیبر پختونخوا کی وہ سرزمین ہے کہ جہاں شعیان حیدر کرار کا خون صرف اور صرف اس لئے بے دردی سے بہایا گیا کہ وہ نبی کریم (ص) اور ان کی پاک آل کے نام لیوا اور ان کے عاشق ہیں۔ تکفیریوں نے یہاں اہل تشیع کو کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تو کبھی بم دھماکے کئے، جنازوں میں خودکش حملے کئے تو کبھی ہینڈ گرنیڈوں سے امام بارگاہوں پر حملہ آور ہوئے۔ اسی قسم کا ایک سانحہ آج سے ٹھیک 17 سال قبل 20 نومبر 2008ء کو پیش آیا، جب ڈیرہ اسماعیل خان میں تکفیری دہشت گردوں نے پہلے صدر بازار میں سید شاہد اقبال نامی شیعہ شہری کو اس وقت فائرنگ کرکے شہید کر دیا، جب وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ شاہد اقبال کی شہادت کے بعد اگلے دن یعنی 21 نومبر کو اُس کی نماز جنازہ اور تدفین تھی۔ یہاں قارئین کیلئے واضح ہو کہ سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ وہ دور تھا کہ جب کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے کسی بے گناہ شہری کا خون ناحق نہ بہایا جاتا ہو۔

سید شاہد اقبال کے جنازے سے ایک گھٹنہ قبل محلہ حیات اللہ میں تکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے امام بارگاہ بی بی مہتاب کے متولی مولانا نذیر حسین کو بے دردی سے شہید جبکہ گوہر عباس نامی شہری کو زخمی کر دیا۔ شہید کا جنازہ کوٹلی امام حسینؑ لے جایا جا رہا تھا کہ ڈائیو بس ٹرمنینل کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ شاہد حسین کا قتل اور پھر جنازے پر دھماکا عین اس وقت ہوا، جب ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی ریڈ الرٹ تھی، کیونکہ اسی سال یعنی 19 اگست 2008ء کو سول ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں زیدی سادات خاندان کو ایک خودکش حملے میں بری طرح نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 35 افراد شہید ہوئے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان شہر "مقبوضہ ڈیرہ" بن چکا تھا تو غلط نہ ہوگا۔ ہر طرف پولیس، سکیورٹی فورسز، گشت، ناکہ بندیاں تھیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق شاہد اقبال کے جنازے میں بھی دہشت گردوں نے بڑے جانی نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔

مقامی ذرائع کے مطابق جب جنازہ کوٹلی امام حسینؑ لایا جا رہا تھا تو جنازے کے آگے پولیس اور بی ڈی اسکواڈ برائے نام چیکنگ کر رہا تھا۔ مگر ڈائیو بس ٹرمینل کے قریب پہنچ کر یہ سب کچھ کیوں رک گیا اور پولیس نفری ڈائیو بس ٹرمینل جلدی جلدی کراس کیوں کیا، یہ چند اقدامات ڈیرہ پولیس کی ریڈ الرٹ سکیورٹی پر نہ صرف سوالیہ نشان تھے بلکہ پولیس کی وردی میں چھپے ناسوروں کے دشت گردوں سے تعلقات کی نشاندہی بھی کرتے تھے۔ جب بس ٹرمینل کے قریب جنازے کے شرکاء پہنچے تو دھماکا ہوگیا، اس دھماکے میں 10 افراد شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے عینی شاہد سید توقیر زیدی کا کہنا ہے کہ عین دھماکے کے وقت میں جنازے کے پیچھے چند گز کے فاصلے پر پیدل چل رہا تھا، جیسے ہی دھماکا ہوا ہر طرف "نعرہ حیدری، لبیک یاحسینؑ" کی صدائیں فضا میں بلند ہونے لگیں۔ دھماکے کی وجہ سے ہر طرف مٹی کا غبار اور بارود کی بو تھی۔ فوراً زخمیوں اور شہداء کو اٹھایا، اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی۔

سید توقیر زیدی کے مطابق میں نے دوستوں سے مل کر دو زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالا۔ اس سانحہ میں میرے استاد جمیل بھی شہید ہوگئے تھے، ہمت کی کہ اُستاد محترم کی میت اٹھاوں، ایک مومن ایمبولینس کے اندر گیا اور جمیل احمد استاد کی میت کو میری طرف کیا، میں نے اُٹھانے کی کوشش کی، مگر ٹانگیں اندر سے ٹوٹ چکی تھیں، زندگی میں ایسا درد مولاء کسی شاگرد کو نہ دکھائے۔ جمیل احمد میرے روحانی باپ و اُستاد ہی نہیں، ایک بہترین دوست بھی تھے۔ یزیدی نسل اور ان کی تربیت کرنے والوں نے سوچا تھا کہ مومینن کو شہید کرکے عزاداری سیدالشہداء کو روک لیں گے، مگر یہ ان کی بھول اور خام خیالی ہے کہ ذکر حسینؑ ہماری شہ رگ حیات ہے۔ میرا یزید کی نسل اور ان کی تربیت کرنے والے اور سہولیات فراہم کرنے والوں کے لئے پیغام ہے کہ تمہاری جد "72 کو تو مٹا نہ سکی، اب کروڑوں کو کیا مٹاؤ گے۔؟" 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان میں شاہد اقبال کے مطابق کوشش کی رہا تھا تھا کہ کی میت اور ان

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی