سرزمین شہداء، ڈیرہ اسماعیل خان، اندوہناک سانحہ کی 17ویں برسی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سید توقیر زیدی کے مطابق میں نے دوستوں سے مل کر دو زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالا۔ اس سانحہ میں میرے استاد جمیل بھی شہید ہوگئے تھے، ہمت کی کہ اُستاد محترم کی میت اٹھاوں، ایک مومن ایمبولینس کے اندر گیا اور جمیل احمد استاد کی میت کو میری طرف کیا، میں نے اُٹھانے کی کوشش کی، مگر ٹانگیں اندر سے ٹوٹ چکی تھیں، زندگی میں ایسا درد مولاء کسی شاگرد کو نہ دکھائے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ خیبر پختونخوا کی وہ سرزمین ہے کہ جہاں شعیان حیدر کرار کا خون صرف اور صرف اس لئے بے دردی سے بہایا گیا کہ وہ نبی کریم (ص) اور ان کی پاک آل کے نام لیوا اور ان کے عاشق ہیں۔ تکفیریوں نے یہاں اہل تشیع کو کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تو کبھی بم دھماکے کئے، جنازوں میں خودکش حملے کئے تو کبھی ہینڈ گرنیڈوں سے امام بارگاہوں پر حملہ آور ہوئے۔ اسی قسم کا ایک سانحہ آج سے ٹھیک 17 سال قبل 20 نومبر 2008ء کو پیش آیا، جب ڈیرہ اسماعیل خان میں تکفیری دہشت گردوں نے پہلے صدر بازار میں سید شاہد اقبال نامی شیعہ شہری کو اس وقت فائرنگ کرکے شہید کر دیا، جب وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ شاہد اقبال کی شہادت کے بعد اگلے دن یعنی 21 نومبر کو اُس کی نماز جنازہ اور تدفین تھی۔ یہاں قارئین کیلئے واضح ہو کہ سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ وہ دور تھا کہ جب کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے کسی بے گناہ شہری کا خون ناحق نہ بہایا جاتا ہو۔
سید شاہد اقبال کے جنازے سے ایک گھٹنہ قبل محلہ حیات اللہ میں تکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے امام بارگاہ بی بی مہتاب کے متولی مولانا نذیر حسین کو بے دردی سے شہید جبکہ گوہر عباس نامی شہری کو زخمی کر دیا۔ شہید کا جنازہ کوٹلی امام حسینؑ لے جایا جا رہا تھا کہ ڈائیو بس ٹرمنینل کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ شاہد حسین کا قتل اور پھر جنازے پر دھماکا عین اس وقت ہوا، جب ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی ریڈ الرٹ تھی، کیونکہ اسی سال یعنی 19 اگست 2008ء کو سول ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں زیدی سادات خاندان کو ایک خودکش حملے میں بری طرح نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 35 افراد شہید ہوئے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان شہر "مقبوضہ ڈیرہ" بن چکا تھا تو غلط نہ ہوگا۔ ہر طرف پولیس، سکیورٹی فورسز، گشت، ناکہ بندیاں تھیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق شاہد اقبال کے جنازے میں بھی دہشت گردوں نے بڑے جانی نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق جب جنازہ کوٹلی امام حسینؑ لایا جا رہا تھا تو جنازے کے آگے پولیس اور بی ڈی اسکواڈ برائے نام چیکنگ کر رہا تھا۔ مگر ڈائیو بس ٹرمینل کے قریب پہنچ کر یہ سب کچھ کیوں رک گیا اور پولیس نفری ڈائیو بس ٹرمینل جلدی جلدی کراس کیوں کیا، یہ چند اقدامات ڈیرہ پولیس کی ریڈ الرٹ سکیورٹی پر نہ صرف سوالیہ نشان تھے بلکہ پولیس کی وردی میں چھپے ناسوروں کے دشت گردوں سے تعلقات کی نشاندہی بھی کرتے تھے۔ جب بس ٹرمینل کے قریب جنازے کے شرکاء پہنچے تو دھماکا ہوگیا، اس دھماکے میں 10 افراد شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے عینی شاہد سید توقیر زیدی کا کہنا ہے کہ عین دھماکے کے وقت میں جنازے کے پیچھے چند گز کے فاصلے پر پیدل چل رہا تھا، جیسے ہی دھماکا ہوا ہر طرف "نعرہ حیدری، لبیک یاحسینؑ" کی صدائیں فضا میں بلند ہونے لگیں۔ دھماکے کی وجہ سے ہر طرف مٹی کا غبار اور بارود کی بو تھی۔ فوراً زخمیوں اور شہداء کو اٹھایا، اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی۔
سید توقیر زیدی کے مطابق میں نے دوستوں سے مل کر دو زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالا۔ اس سانحہ میں میرے استاد جمیل بھی شہید ہوگئے تھے، ہمت کی کہ اُستاد محترم کی میت اٹھاوں، ایک مومن ایمبولینس کے اندر گیا اور جمیل احمد استاد کی میت کو میری طرف کیا، میں نے اُٹھانے کی کوشش کی، مگر ٹانگیں اندر سے ٹوٹ چکی تھیں، زندگی میں ایسا درد مولاء کسی شاگرد کو نہ دکھائے۔ جمیل احمد میرے روحانی باپ و اُستاد ہی نہیں، ایک بہترین دوست بھی تھے۔ یزیدی نسل اور ان کی تربیت کرنے والوں نے سوچا تھا کہ مومینن کو شہید کرکے عزاداری سیدالشہداء کو روک لیں گے، مگر یہ ان کی بھول اور خام خیالی ہے کہ ذکر حسینؑ ہماری شہ رگ حیات ہے۔ میرا یزید کی نسل اور ان کی تربیت کرنے والے اور سہولیات فراہم کرنے والوں کے لئے پیغام ہے کہ تمہاری جد "72 کو تو مٹا نہ سکی، اب کروڑوں کو کیا مٹاؤ گے۔؟"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان میں شاہد اقبال کے مطابق کوشش کی رہا تھا تھا کہ کی میت اور ان
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔