خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں دھماکے کے فورا بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔پولیس کے مطابق ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہتھالہ گلوٹی روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب ہوا۔ذرائع کے مطابق ٹکواڑہ پولیس چوکی کی بکتر بند گاڑی حسب معمول گشت پر تھی کہ دھماکا ہوگیا .

جس کے نتیجے میں ڈرائیور اور کانسٹیبل شہید ہوگئے جب کہ دھماکے میں 4 اہلکار زخمی بھی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

دریں اثنا  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے میں پولیس بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے شہید اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے واقعے میں زخمی ہونے والے 4 اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں. صوبائی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بکتر بند گاڑی کے قریب ڈیرہ اسم عیل خان کی بکتر بند گاڑی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا