دستاویزی فلم تیار کرنے کا مقصد طاقت کا اظہار اور حقائق پہنچانے کے لئے اسرائیلی رائے عامہ کے ساتھ تعامل ہے، جو حقائق طویل عرصے سے عبرانی بولنے والے سامعین سے پوشیدہ ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں غاصب اسرائیل رجیم کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کی طرف سے بنائی گئی عبرانی دستاویزی فلم کو "اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا جنگ" قرار دیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے عبرانی زبان میں اپنی پہلی دستاویزی فلم "بازان پر میزائل" نشر کی ہے، جس میں 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف ایران کے میزائل حملوں کا احوال پیش کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی فوج اور نیشنل نیوز ویب سائٹ نے دستاویزی فلم پر ردعمل ظاہر کیا ہے کہ یہ ایران کی اسرائیل کے میڈیا کوریج میں ایک نیا نقطہ نظر ہے، اور یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی سامعین کے لیے خاص طور پر عبرانی زبان میں فلم تیار کی گئی ہے۔ اسرائیلی آؤٹ لیٹ نے یہ بھی لکھا کہ اس دستاویزی فلم کا فوکس حیفا آئل ریفائنریوں پر ایران کے میزائل حملے پر ہے، ایک ایسا واقعہ جس کے پروڈیوسر (دستاویزی فلم کے) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں اور خطے میں طاقت کی مساوات تبدیل ہو سکتی ہے۔

ایران میں تیار کی جانے والی پہلی عبرانی زبان کی دستاویزی فلم کا آغاز تسنیم نیوز ایجنسی میں علاقائی امور میں مہارت رکھنے والے میڈیا کارکنوں کے ایک گروپ کی موجودگی میں ہوا۔ دستاویزی فلم ایران اور صیہونی حکومت کے درمیان تنازع کی ایک نئی اور مختصرداستان پیش کرتی ہے اور اسرائیل کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پروڈکشن میں ایک نئے قدم کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔

دستاویزی فلم کی نمائش کے بعد، حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے انگریزی اور عربی سمیت دیگر زبانوں میں اس کے فارسی ورژن جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ تسنیم کے سی ای او ماجد قلی زادہ نے اعلان ہے کیا کہ دستاویزی فلم کے فارسی اور دیگر زبانوں میں ورژن جلد ہی ریلیز کے لیے تیار ہوں گے۔ بازان پر میزائل، تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے پر ایران اور اسرائیلی حکومت کے درمیان خفیہ محاذ آرائی پر ایک تجزیاتی اور حقیقت پسندانہ کہانی ہے۔

پوری داستان کے دوران سامعین جنگ کے دوران ذہانت اور اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی کی نئی جہتوں سے واقف ہو تے ہیں، تزویراتی سوچ اور ٹیکنالوجی میدان جنگ میں ایران کی طاقت کی ایک درست اور حقیقت پسندانہ تصویر سامنے آتی ہے۔ دستاویزی فلم تیار کرنے کا مقصد طاقت کا اظہار اور حقائق پہنچانے کے لئے اسرائیلی رائے عامہ کے ساتھ تعامل ہے، جو حقائق طویل عرصے سے عبرانی بولنے والے سامعین سے پوشیدہ ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دستاویزی فلم اسرائیل کے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل