Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:38:08 GMT

یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے سعودی عرب میں پاپ اپ پارک کھول لیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے سعودی عرب میں پاپ اپ پارک کھول لیا

ٹک ٹاکر، یوٹیوبر اور سوشل میڈیا اسٹار جیمز اسٹیفن جمی ڈونلڈسن المعروف مسٹر بیسٹ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک عارضی تفریحی پارک ’بیسٹ لینڈ‘ کا افتتاح کیا، جو مداحوں کے لیے دلچسپ رکاوٹیں اور چیلنجز پیش کرتا ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق 45 کروڑ سے زائد سبسکرائبرز والے مسٹر بیسٹ نے حال ہی میں ریاض میں ایک عارضی تفریحی پارک کھولا، ایسے وقت میں جب سعودی عرب تیزی سے ایک بڑے تفریحی مرکز کے طور پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پارک کا نام ’بیسٹ لینڈ‘ ہے اور یہ 13 نومبر سے 27 دسمبر تک کھلا رہے گا، جہاں مختلف رکاوٹیں اور چیلنجز ہیں جو مسٹر بیسٹ کی مشہور ویڈیوز کی طرح ہیں اور لوگ ان میں حصہ لے کر بڑے انعامات جیت سکتے ہیں۔

یہ پارک ریاض سیزن کا حصہ ہے، جو ایک سالانہ میلہ ہے اور دارالحکومت کو سیاحتی مقام بنانے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سعودی عرب مشہور شخصیات کو مدعو کر کے اپنی معیشت کو تیل پر منحصر ہونے سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مسٹر بیسٹ کا کہنا تھا کہ ان کے زیادہ تر ناظرین شمالی امریکا کے باہر ہیں اور مشرق وسطیٰ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی ویڈیوز دیکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ریاض میں رہنے والے مداحوں کے لیے کچھ دلچسپ کیا جائے۔

اس سے قبل مسٹر بیسٹ نے پارک کے دروازے کے سامنے ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جو نیلے شیر کے سر کی شکل میں ہے اور آنکھوں میں چمکتی ہوئی بجلی کی روشنی ہے، جو ان کے لوگو کی یاد دلاتی ہے۔

ویڈیو میں مسٹر بیسٹ نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے منفرد کام ہے اور وہ اس موقع کے منتظر ہیں کہ لوگوں کا اس پر کیا ردعمل ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہے اور

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے