کشتی پر چڑھ کر سیل نے کِلر وہیلز سے اپنی جان بچائی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے سمندری علاقوں میں پیش آنے والے ایک حیران کن واقعے میں ایک سیل نے اپنی ہوشیاری سے کِلر وہیلز کے شکار سے جان بچائی۔
فوٹوگرافر Charvet Drucker نے سیئیٹل کے قریب سمندری سفر کے دوران ایک گروپ میں موجود آٹھ کِلر وہیلز کو شکار کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ وہیلز اپنی شکار کی مہارت کے لیے مشہور ہیں اور گریٹ وائٹ شارک سمیت دیگر سمندری جانداروں کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
دورانِ شکار فوٹوگرافر نے دیکھا کہ سیل وہیلز کے درمیان ہوا میں اڑتا ہوا کشتی کی جانب بڑھا۔ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے کشتی پر چڑھنے کا فیصلہ کیا، جہاں وہیلز نے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ کشتی کے قریب پہنچنے پر سیل پلیٹ فارم پر محفوظ ہو گیا اور فوٹوگرافر نے کشتی کا انجن بند کر دیا تاکہ وہیلز کو نقصان نہ پہنچے۔ تقریباً 15 منٹ بعد کِلر وہیلز کشتی سے دور ہو گئیں اور سیل اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔
فوٹوگرافر نے بتایا کہ وہ اکثر مردہ سیلز کو وہیلز کے شکار ہوتے دیکھتی ہیں، مگر اس واقعے میں سیل کی ہوشیاری نے سب کو حیران کر دیا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ سمندری دنیا میں طاقت کے ساتھ ساتھ ہوشیاری بھی زندگی اور موت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ک لر وہیلز
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔