فوٹو: ایکس 

بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستان ائیر فورس اور پاکستانی طیارے جے ایف۔17 تھنڈر کے فین نکلے، بھارتی فوجیوں نے جے ایف۔17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

دبئی ائیر شو 2025 میں پاکستان کا جے ایف۔17 تھنڈر ایک بار پھر سب کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔

معرکۂ حق میں پاک فضائیہ کی شاندار کامیابی کے بعد جہاں دنیا بھر میں پاک فضائیہ کی دھوم ہے، وہیں بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاک فضائیہ سے متاثر ہوگئے۔

فوٹو/@Natsecjeff

دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے پاکستانی پویلین کا دورہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس پاکستانی ہتھیاروں میں دلچسپی دکھائی۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس موقع پر پاک فضائیہ کے پائلٹس کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو چائے کی دعوت بھی دی گئی۔

'آئیے آپ کو چائے پلائیں'

پاک فضائیہ کے پائلٹس کا کہنا تھا کہ 'آئیے آپ کو چائے پلائیں' ، جس پر بھارتی فوجیوں نے انتہائی شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی اور بس پانی پر ہی اکتفا کیا۔

فوٹو/@Natsecjeff

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کوئی مہمان آجائے تو ہماری طرف سے ویلکم ہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستانی طیارے جے ایف۔17 تھنڈر کے فین نکلے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پائلٹس اور فضائیہ کے اہلکار ڈسپلے ایریا میں جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ ذوق شوق کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں۔

فوٹو/@Natsecjeff

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھارتی فضائیہ پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔

ایکس پر ایک بھارتی صارف نے طنزیہ سوال کیا کہ 'پائلٹ ایک ساتھ ہنس سکتے ہیں لیکن کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاسکتے'۔

فیس بک پر ایک پاکستانی صارف نے تبصرہ کیا کہ ' پاک فضائیہ مہمانوں کے ساتھ پروفیشنل طریقے سے پیش آتی ہے اور انہیں 'فنٹاسٹک ٹی' پیش کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتی'۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جے ایف 17 تھنڈر کے پاک فضائیہ کے ساتھ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ