اطالوی صحافی فرانچیسکا مارینو نے بالاکوٹ حملے پر بھارتی رپورٹنگ پر سوالات اٹھادیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد: اطالوی صحافی فرانچیسکا مارینو نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے حملے کے دوران 35 لاشیں ہٹائیں تھی، یہ دعویٰ بھارت کے سرکاری بیان سے سخت متضاد ہے، جس میں 300 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہونے کی بات کی گئی تھی۔ مارینو کی رپورٹنگ اکثر بھارتی بیانیے کے مطابق رہی ہے اور اس پر آزاد شواہد کی کمی کے باعث شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہے ہیں۔
مارینو کی کتاب Balakot: From Pulwama to Payback مکمل طور پر نامعلوم ذرائع پر مبنی ہے اور اس میں عالمی میڈیا اور تحقیقاتی اداروں کی مشاہدات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ زمینی رپورٹس کے مطابق صرف درخت ٹوٹے، ایک دیہاتی زخمی ہوا اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ عالمی اداروں جیسے بی بی سی، رائٹرز، اے ایف پی، نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ نے بھی حملے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر موقع کا جائزہ لیا لیکن کسی تباہ شدہ عمارت یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔
مارینو کی رپورٹ میں بھارت کے دعووں میں تضاد کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ بھارت نے ابتدا میں 300 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا، پھر 350، پھر “بڑی تعداد” اور بعد میں کہا کہ “ہم تعداد نہیں گنتے”، آخر میں دعویٰ کیا کہ “ہدف کو نشانہ بنایا گیا”۔ مارینو نے بھارت کی سکیورٹی ایجنسیز کی ناکامیوں کو کم دکھایا اور پاکستان کے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو بھی کم اہمیت دی۔
ماہرین کے مطابق مارینو کے مضامین اکثر کم معروف ویب سائٹس پر شائع ہوتے ہیں اور ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کی تفصیلات محدود ہیں، جس سے شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مارینو بھارت کے بیانیے کی حمایت میں ہزاروں میل دور سے لکھتی رہی ہیں، جس سے ان کی رپورٹنگ پر تعصب کے شبہات بڑھ جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔