شعیب ملک سے طلاق کے بعد ثانیہ مرزا کو کیا مشکلات پیش آئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سابق ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نے زندگی کے کٹھن لمحات سے متعلق لب کشائی کردی۔
بولی وڈ کی مشہور فلم ساز فرح خان کے ساتھ ’اپ نے یوٹیوب چینل سرونگ اِٹ اپ وتھ ثانیہ‘ میں ٹینس اسٹار نے اپنے سابق شوہر شعیب ملک سے علیحدی کے بعد زندگی کے تکلیف دہ مرحلے سے متعلق گفتگو کی۔
بیٹے کی اکیلے پرورش میں مشکلات سے متعلق بات کرتے ہوئے فلمساز فرح خان کا کہنا تھا کہ ثانیہ اب سنگل والدہ ہیں۔ سنگل والدہ ہونے سے زیادہ مشکل کام اور کوئی نہیں۔ ہم سب کے ساتھ ہمارے سفر ہیں اور ہمیں اس چیز کا انتخاب کرنا ہے کہ بہترین کیا ہے۔
ثانیہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ماں بننا، کام کرنا اور پڑھنا اکثر ان کو تھکا دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو کیمرا پر نہیں کرنا چاہتی ہیں لیکن ایک ایسا موقع تھا جب وہ بہت تکلیف میں تھیں اور فرح خان ان کے سیٹ پر آئیں اور اس کے بعد ثانیہ نے لائیو شو کیا۔ اگر فرح نہ آتیں تو وہ شو نہ کر پاتیں۔
فرح خان نے بتایا کہ وہ بہت ڈر گئیں تھیں۔ انہوں نے ثانیہ کو پہلے کبھی پینک اٹیک میں نہیں دیکھا تھا۔
واضح رہے شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے درمیان طلاق جنوری 2024 میں ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔