غیر ملکی خواتین کا کوٹ ادو کے 2 نوجوانوں سے نکاح، دونوں نے اسلام قبول کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
کوٹ ادو:
بلغاریہ اور جاپان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین پاکستان کے شہر کوٹ ادو پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے مقامی نوجوانوں سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کیا۔
بلغاریہ کی رہائشی اسٹیفانووا جنہوں نے اسلام کو اپنے عقیدہ کے طور پر اختیار کیا، پاکستانی نوجوان عدنان گورمانی سے رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں۔ اس کے بعد ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا۔
اسی طرح جاپان کی باشندہ ایشی موتو آکی نے بھی اپنے دل کی خواہش کے مطابق شعیب گشکوری سے نکاح کیا جس کے بعد ان کا اسلامی نام دعا فاطمہ رکھا گیا۔
دونوں غیر ملکی خواتین نے اپنے مذہب میں تبدیلی کے بعد اسلام کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے مقامی مدرسہ جامعہ انوارالاسلام کوٹ ادو کا انتخاب کیا۔
اسی مدرسے میں دونوں جوڑوں کا شرعی نکاح بھی مکمل کیا گیا۔
ان کے وکیل کے مطابق قانونی نکاح کے تمام کاغذی مراحل مکمل کرنے کے بعد دونوں جوڑوں کا نکاح رجسٹر کروا لیا جائے گا۔
اس سے قبل یہ جوڑے اپنی شادی کے لیے اپنے اپنے وطن واپس جائیں گے تاکہ تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔