گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس 21 نومبر کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
دوسری جانب کل یعنی 20 نومبر کو صوبائی حکومت کا آخری کابینہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ اسمبلی کی مدت 25 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان اسمبلی کا 42 واں اور موجودہ حکومت کا آخری اجلاس طلب کر لیا۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اجلاس جمعہ، 21 نومبر 2025ء کو دوپہر 2 بجے اسمبلی بلڈنگ جٹیال گلگت میں منعقد ہو گا۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کا اختتام 24 نومبر 2025ء کو دوپہر کے وقت ہو گا۔یہ سیشن گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کی شق 53 (1) کے تحت گورنر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے طلب کیا گیا ہے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس کی اطلاع وزراء، مشیروں، تمام اراکین اسمبلی، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، سیکریٹریز، اور قومی و ریاستی میڈیا اداروں سمیت تمام متعلقہ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ دوسری جانب کل یعنی 20 نومبر کو صوبائی حکومت کا آخری کابینہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ اسمبلی کی مدت 25 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان نومبر کو گیا ہے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔