انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹ پڑا، راکھ کے بادل فضا میں 13 کلومیٹر تک بلند
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں واقع آتش فشاں ماؤنٹ سیمیرو بدھ کے روز پھٹ پڑا جس کے بعد حکام نے خطرے کا درجہ بلند ترین سطح تک بڑھا دیا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں راکھ اور گیس کا غبار کئی کلومیٹر آسمان میں پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 گھنٹوں میں زلزلے کے 160 جھٹکے، آتش فشاں پھٹنے کا الرٹ جاری
انڈونیشیائی جیوولوجیکل ایجنسی کے سربراہ محمد وافد کے مطابق ماؤنٹ سیمیرو نے مقامی وقت کے مطابق 2:13 بجے دوپہر پر آتش فشانی مواد اگلنا شروع کیا جس میں پیروکلاسٹک فلو یعنی گرم راکھ، گیس اور پتھروں کے تیز رفتار بادل بھی شامل ہیں۔
#Indonesia ???????? #volcano_eruption live : The webcam footage of a pyroclastic flow from Mount Semeru's eruption showing superheated ash and rocks surging down the slope at high speeds amid surrounding vegetation.
— ???????????????????????? ???????????????????? ???????????????????????????????????? (@Shk__R) November 19, 2025
وفد نے خبردار کیا کہ 8 کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی سرگرمی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے اور لوگوں کو فوری طور پر دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
300 افراد محفوظ مقامات پر منتقلقومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان عبدالمہاری کے مطابق آتش فشاں کے دھماکے سے اٹھنے والا راکھ کا بادل 13 کلومیٹر (8 میل) کی بلندی تک جا پہنچا۔
مزید پڑھیے: غیر فعال آتش فشاں کے دھانے پر آباد سعودی گاؤں میں خاص کیا ہے؟
کم از کم 300 رہائشیوں کو 2 عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آتش فشاں آتش فشاں کی راکھ انڈونیشیا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا تش فشاں کی راکھ انڈونیشیا
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔