دبئی ایئر شو ؛ سربراہ پاک فضائیہ کی مختلف ممالک کے ائیر چیفس سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
سٹی 42 : سربراہ پاک فضائیہ کی دبئی ایئر شو میں مختلف ممالک کے ائیر چیفس سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پروفیشنل ایکسچینجز اور مستقبل کی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوست ممالک کے فضائی سربراہان سے اعلیٰ سطحی بات چیت ہوئی، ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے انڈر سیکرٹری برائے دفاع اور کمانڈر یو اے ای ائر فورس سے خصوصی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ملاقاتوں کا محور اعلیٰ تربیت، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور آپریشنل ہم آہنگی میں تعاون تھا۔
نادرا کا سسٹم ڈاؤن ، بیرون ملک جانے کیلئے پولیو سرٹیفکیٹ کا اجرا بند
اماراتی عسکری قیادت کی جانب سے پاک فضائیہ کی مقامی صلاحیتوں اور جدت طرازی پر اظہارِ اعتماد کیا گیا، ساتھ ہی مشترکہ مشقوں، پروفیشنل ایکسچینجز اور مستقبل کی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی کیا گیا۔
دفاعی ماہرین اور ہوا بازی کے شائقین کی جے ایف 17 بلاک تھری میں گہری دلچسپی رہی۔
جے ایف 17 کی جدید ٹیکنالوجی اور عملی کارکردگی نے عالمی اعتماد مزید بڑھا دیا۔
پبلک سروس کمیشن کے امتحانات، خیبر پختونخوا میں دفعہ144 نافذ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔