مارشل آرٹس اسٹار راشد نسیم نے بیٹی کے ہمراہ مزید تین ریکارڈ بنا ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پاکستان کے لیے سب سے زیادہ عالمی ریکارڈ بنانے والے راشد نسیم اور ان کی صاحبزادی فاطمہ نسیم نے مزید 3 عالمی عالمی ریکارڈ توڑ ڈالے۔
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی کے رہائشی راشد نسیم کو پاکستان کے لیے سب زیادہ عالمی ریکارڈ بنانے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ان کی بیٹی فاطمہ نسیم فیمیل کیٹیگری میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ گنیز ورلڈ ریکارڈز بنا چکی ہیں۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ نے اپنی 70ویں سالگرہ کے موقع پر نئی کیٹیگری کو متعارف کروا کر راشد نسیم اور ان کی بیٹی فاطمہ نسیم کو ورلڈ ریکارڈ بنانے کے لیے ہدف بھیجا۔
فاطمہ نسیم نے دونوں ہاتھوں میں انڈا پکڑ کر غباروں کو پھاڑنے کا عالمی ریکارڈ بنایا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ نے فاطمہ نسیم کو کم سے کم 70 غباروں کو پھاڑنے کا ہدف دیا تھا جس کو فاطمہ نے باآسانی حاصل کر لیا اور 30 سیکنڈ میں اپنے ہاتھوں میں انڈا پکڑ کر 76 غباروں کو پھاڑ ڈالا۔
راشد نسیم نے ایک ریکارڈ شن کی مدد سے 35 کے مقابلے میں 42 ماربل ٹائلز توڑ کر بنایا جبکہ دوسرا ریکارڈ دو نن چکو سے غبارے پھاڑنے کا تھا۔ اس ریکارڈ کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں غباروں کا ایک ساتھ نن چکو سے پھٹنا ضروری تھا۔
واضح رہے کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ نے اپنے آفیشل پیج پر 70 ویں سالگرہ پر رابطہ کیا اور خصوصی پیغام اور اسپیشل پرفارمنس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی جس کو اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔
راشد نسیم اس سے قبل اٹلی، جرمنی، اسپین، کوریا، چین، سنگاپور اور رومانیہ سمیت دیگر ممالک میں اپنی ناقابل یقین صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
وہ واحد پاکستانی ہیں جو بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔
راشد نسیم کا کہنا ہے کہ حکومتی مدد کے بغیر ورلڈ ریکارڈ بنانا اور انٹرنیشنل ٹی وی شوز تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے، مگر میں نے ہمت نہیں ہاری، خواہش ہے کہ میری محنت کو حکومتی سطح پر سراہا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گنیز ورلڈ ریکارڈ عالمی ریکارڈ فاطمہ نسیم کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں