Juraat:
2026-06-03@05:42:02 GMT

حسینہ واجد کی سزائے موت دنیا کیلئے عبرت ناک سبق ،حافظ نعیم

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

حسینہ واجد کی سزائے موت دنیا کیلئے عبرت ناک سبق ،حافظ نعیم

بھارتی پروردہ نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا
عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی،ردعمل کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں آج جو واقعہ پیش آیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا عبرت ناک درس ہے جو روزِ روشن کی طرح واضح ہے، بھارتی پروردہ شیخ حسینہ واجد، نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جس طرح جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا، عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بھارت کی سرپرستی اور اُس کی ہدایات پر قومی مفادات کا سودا کرنے کے باوجود وہ نہ نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں، نہ ہی عوامی لیگی فسطائیت کو دائمی بنا سکیں۔ آج، بالآخر، اُسی کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے حسینہ واجد کے خلاف انتہائی سزا کا فیصلہ سنایا ہے وہی عدالت جس کے ذریعے اُنہوں نے بے شمار محب اسلام اور محب وطن شخصیات کو یک طرفہ مقدموں کے عبرتناک ڈرامے کے بعد پھانسیوں کے تختے پر چڑھایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منظر نامہ اُن تمام جابروں، ظالموں، جھوٹ اور ظلم پر مبنی حکمرانی چلانے والوں، اور عدل و انصاف کا خون کرنے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ انجام بالآخر سب کے سامنے آتا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم آج اُن تمام مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے یہ ستم برداشت کیے، اور بنگلا دیش کی ترقی، خوش حالی اور اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے دُعا گو ہیں۔بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت سے باضابطہ طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت فوری طور پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ مجرموں کو پناہ دینا بھارت کا غیر دوستانہ اقدام اور انصاف کی بے توقیری ہے۔شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں گزشتہ برس طلبہ کے ملک گیر احتجاج کو طاقت کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1400 کے قریب افراد جاں بحق جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار