حسینہ واجد کی سزا پر عالمی ماہر کا تبصرہ، بنگلہ دیش میں سیاسی اثرات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بین الاقوامی بحران گروپ کے سینیئر مشیر تھامس کیان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو جرائم انسانیت کے الزامات میں سزا سنائے جانے کا فیصلہ بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر خوش آئند سمجھا جائے گا جہاں جولائی اگست 2024 کے دوران مظاہرین پر ہونے والے مظالم میں ان کی ذمہ داری پر عام طور پر کسی کو شک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پابندی نہیں ہٹی تو بنگلہ دیش میں الیکشن نہیں ہونے دیں گے، حسینہ واجد کے بیٹے کی دھمکی
تھامس کیان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک تحقیق میں پہلے ہی یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اس کریک ڈاؤن کے دوران 1,400 کے قریب افراد ہلاک ہوئے اور یہ سب سیاسی قیادت کے علم، تعاون اور ہدایت کے ساتھ ہوا جس میں خاص طور پر شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان شامل تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹربیونل میں مقدمے کے دوران مزید شواہد سامنے آئے جن میں شیخ حسینہ کی کریک ڈاؤن پر بات چیت کی ریکارڈنگز اور ملک کے سابق پولیس چیف کے بیانات شامل ہیں۔
تاہم تھامس کیان نے عدالت کے عمل پر تنقید کے امکان کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر حاضری میں مقدمات اکثر تنازع کا سبب بنتے ہیں اور اس کیس میں سماعت کی رفتار اور دفاعی وسائل کی کمی انصاف کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور ریفرنڈم ایک ہی دن ہوں گے، چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسائل بنگلہ دیش کے فوجداری انصاف کے نظام کی طویل المدتی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں عارضی حکومت نے اگست 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مکمل طور پر حل نہیں کیا مگر انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنقیدیں شیخ حسینہ یا عوامی لیگ کی قیادت اور بعض سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو کم کرنے یا بھٹکانے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔
تھامس کیان نے کہا کہ اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی سنگین ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم کے بنگلہ دیش میں سیاسی واپسی کے امکانات اب بہت کم ہیں اور جب تک وہ عوامی لیگ پر کنٹرول برقرار رکھتی ہیں، پارٹی کو دوبارہ سیاسی میدان میں داخل ہونے کی اجازت ملنا مشکل لگتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خصوصاً اگست 2026 میں متوقع قومی انتخابات کے قریب حالیہ دھماکوں اور عوامی لیگ کی طرف سے ملک گیر ‘لاک ڈاؤن’ کی کال نے ملک میں کشیدگی پیدا کردی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ، ملک بھر میں سیکیورٹی سخت کردی گئی
تھامس کیان نے عوامی لیگ کو پرامن رہنے اور عارضی حکومت کو بھی پارٹی کے حمایتیوں پر بھاری اقدامات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال شیخ حسینہ واجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال شیخ حسینہ واجد تھامس کیان نے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ انہوں نے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔