پاک بھارت جنگ، چینی ہتھیاروں کیساتھ پاکستان کی کارکردگی نمایاں رہی، امریکی کانگریس کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکی کانگریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے فوجی برتری حاصل کی، جس میں چین نے اپنے دفاعی نظام کو آزمایا۔ چار روزہ جھڑپ کے دوران پاکستان کی چینی ہتھیاروں کے ساتھ کارکردگی نمایاں رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے 2024 اور 2025 میں پاکستان کے ساتھ عسکری تعاون بڑھایا، جس میں مشترکہ مشقیں، انسدادِ دہشت گردی ڈرلز اور پاکستان کی کثیرالملکی امن مشقیں شامل تھیں۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا چینی ہتھیاروں کی مدد سے بھارت کے فرانسیسی رافیل طیاروں کو نشانہ بنانا، چینی اسلحے کی فروخت کے لیے ایک مؤثر دلیل بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے جنگ مسلط کرنیوالوں کو اسی طرح جواب دینگے جیسا مئی میں دیا: فیلڈ مارشل عاصم منیر پاک بھارت جنگ کے دوران 7 نئے خوبصورت طیارے مار گرائے گئے، ٹرمپ پاک بھارت جھڑپیں، دنیا نے پاکستان کے پاس چینی ٹیکنالوجی کی جھلک دیکھ لی، رپورٹرپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ چین کے جدید ہتھیار HQ-9 میزائل ڈیفنس سسٹم، PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلز اور J-10 لڑاکا طیارے براہِ راست جنگ میں استعمال ہوئے، جو چین کے لیے عملی میدان میں ایک بڑا تجربہ ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق چین نے جون 2025 میں پاکستان کو J-35 جدید لڑاکا طیارے، KJ-500 ایئرکرافٹ اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز فروخت کرنے کی منظوری دی۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُسی ماہ پاکستان نے 26-2025 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جس سے مجموعی بجٹ میں کمی کے باوجود دفاعی اخراجات 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: امریکی کانگریس رپورٹ میں پاک بھارت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :