میرپور خاص کی سماجی شخصیت سلامت لاکھو جھگڑے کے مقدمے میں عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)میرپورخاص کے سیاسی و سماجی رہنما سلامت لاکھو جھگڑے اور مارپیٹ کے مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے۔ مدعی کی عدم پیشی اور وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی۔ سینٹرل جیل پولیس نے سلامت لاکھوکو مارپیٹ اور جھگڑے کے تین الگ الگ مقدمات میں حیدرآباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا۔ کوئی بھی مدعی عدالت میں پیش نہ ہوا اور وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے باعث سماعت 26 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔ سلامت لاکھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدعی مقدمہ میں پیش نہیں ہوا اور مقدمہ نہیں چل رہا۔ اپوزیشن کو ڈر ہے کہ سلامت لاکھو باہر نہ آجائے۔ سلامت لاکھو نے مزید کہا کہ میرپورخاص میں میری ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی ہے اور بااثر جماعتیں میری زمینوں اور سوسائٹیوں پر قبضے کر رہی ہیں۔ میرے خلاف 85 مقدمات درج ہیں۔ میں تمام مقدمات سے بری ہو گیا۔ باقی 3 کیسز باقی ہیں۔ اپوزیشن جان بوجھ کر اپنے گواہ عدالت میں پیش نہیں کر رہی اور کیس کو گھسیٹا جا رہا ہے۔ سلامت لاکو نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق عدالتی اداروں سے مکمل اعتماد اور انصاف کی امید ہے۔ ماضی میں ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن عدالتوں سے انصاف۔ ہمیں اب بھی انصاف کی امید ہے۔ سلامت لاکھو نے مزید کہا کہ وہ کسی دباؤ کے سامنے نہیں آئیں گے اور قانونی میدان میں اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت میں پیش سلامت لاکھو کہا کہ
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔