ممبران انجمن نے اصولی طور پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی، بشمول آئی سی سی بی ایس اور جامعہ کراچی کی فیکلٹی اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اس بل کے خاتمہ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، ساتھ ساتھ ہر فورم پر اس بل کے حقائق سامنے لانے کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس میں آئی سی سی بی ایس کو جامعہ سے علیحدہ کرنے اور متوقع ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری میں محض ڈونرز کو بااختیار کرنے جیسے اہم مسائل پر گفتگو اور فیصلے کیے گئے۔ انجمن اساتذہ کے اجلاس میں اس امر پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا ہی لگایا گیا پودا ہے اور یہاں کی فیکلٹی، طلبہ اور زمین جامعہ کراچی کی ہی ہیں لیکن اسے جامعہ کراچی یا انسٹیٹیوٹ کی کسی بھی باڈی سے مشاورت کے بغیر علیحدہ کرنے کا بل بنالیا گیا ہے، اس بل میں صرف 1% ڈونیشن دینے والے 2 ڈونرز کو شامل کرکے بہت سی چیزوں کا اختیار دے دینا کسی صورت مناسب نہیں۔

انجمن اساتذہ کے مطابق اس بل کے تحت کسی بھی ایمپلائی کو کورٹ جانے کا اختیار بھی نہیں ہوگا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، اس وقت ICCBS میں 650 سے زائد طلبہ تعلیم و تحقیق کے عمل سے وابستہ ہیں جنہوں نے یقیناً جامعہ کراچی کے نام پر ہی وہاں داخلہ لیا ہے۔ انجمن اساتذہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بتدریج رابطہ کر رہے ہیں، اس معاملے پر تمام افراد نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ اراکین انجمن نے سوال کیا کہ ڈونرز کیسے انویسٹرز بن سکتے ہیں، اراکین نے بل میں موجوزہ سرچ کمیٹی میں وزیراعلی کے ساتھ محض دو ڈونرز کی موجودگی کو اس بل کے اغراض و مقاصد کی قلعی کھولنے کے لیے کافی قرار دیا۔

انجمن اساتذہ کا ماننا ہے کہ یہ بل ICCBS کے طلبا، اساتذہ، ملازمین اور خود سینٹر اور جامعہ کراچی کے مفادات کے خلاف محض 1% ڈونیشن دینے والے دو افراد کے حق میں بنایا گیا ہے جس سے ادارے کے تعلیمی و تحقیقی ماحول کو شدید گزند پہنچے گی۔ اس پوری صورتحال میں طے کیا گیا کہ اسی ہفتے چیف منسٹر اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی کوشسوں کے ساتھ خطوط لکھ کر ان سے اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جائے گا۔ ادارے کے اندر اور باہر تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتوں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

انجمن اساتذہ کے مطابق یکم دسمبر، بروز پیر، 12 بجے دن، ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے اس بل کے اثرات سے بذریعہ پریس تمام طبقات کو مطلع کرنے کے ساتھ اس وقت تک کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ ممبران انجمن نے اصولی طور پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی، بشمول آئی سی سی بی ایس اور جامعہ کراچی کی فیکلٹی اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اس بل کے خاتمہ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، ساتھ ساتھ ہر فورم پر اس بل کے حقائق سامنے لانے کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ امید ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے پورے ادارے اور جامعہ کی اس تشویش پر مثبت رد عمل سامنے آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ اور جامعہ اس بل کے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت