آئی ایل ٹی20: شعیب ملک پہلی بار کمنٹری باکس میں،وسیم اکرم، وقار یونس بھی پینل کا حصہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
دبئی: ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 کے چوتھے سیزن کے آغاز سے قبل لیگ انتظامیہ اور براڈکاسٹ پارٹنر زی نیٹ ورک نے نئے اور تجربہ کار کمنٹیٹرز پر مشتمل ایک جامع کمنٹری پینل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پینل میں اس سال تین اہم چہروں کی شمولیت نے ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے جن میں پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک، بھارت کے سابق اسٹار محمد کیف اور زمبابوے کے معروف کرکٹر و کوچ اینڈی فلاور شامل ہیں۔نئے شامل ہونے والے ماہرین کے ساتھ موجودہ پینل میں وسیم اکرم، سائمن ڈول، ایان بشپ، ہربھجن سنگھ، روہن گواسکر، الن ولکنز، وقار یونس، ڈیرن گنگا، اویس شاہ، مائیک ہیزمین، عروج ممتاز، انجم چوپڑا، نکھل چوپڑا، ویوک رازدن، سبا کریم، اجے مہرا اور ریما ملہوترا جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ نام شامل ہیں جو انگریزی اور ہندی میں شائقین کو کھیل کے قریب تر لائیں گے۔براڈکاسٹ ٹیم میں لارا میک گولڈ رک، گریس ہیڈن، ارجن پانڈت اور ردھیما پتھاک بھی فرائض سرانجام دیں گے۔وسیم اکرم نے کہا کہ یو اے ای میں کھیلے گئے اپنے یادگار لمحوں کے باعث وہ اس لیگ سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور چوتھے سیزن میں بطور کمنٹیٹر واپسی ان کے لیے باعثِ خوشی ہے۔ شعیب ملک نے اپنے پہلے کمنٹری سیزن کے حوالے سے کہا کہ وہ پرجوش ہیں اور ساتھی کرکٹرز کے ساتھ پلیٹ فارم شیئر کرنا ایک خوشگوار تجربہ ہوگا۔ اینڈی فلاور نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لیگ میں سعودی عرب اور کویت کے کھلاڑیوں کی شمولیت سے اس سال مقابلہ مزید مضبوط ہوگا، جبکہ ایان بشپ نے کہا کہ یہ لیگ خطے میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کا آغاز 2 دسمبر کو یو اے ای کے قومی دن کے موقع پر ہوگا جبکہ 34 میچز پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ 4 جنوری 2026 کو فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ اس سیزن میں دنیا بھر کے بڑے کرکٹرز ایکشن میں نظر آئیں گے جن میں فل سالٹ، سنیل نرائن، آندرے رسل، سیم کرن، نور احمد، نسیم ، شمرون ہیٹمائر، روومن پاؤل، مصتفیض الرحمان، معین علی، پتہم نسانکا، رحمٰن اللہ گرباز، کیرون پولارڈ، نکولس پوران، سکندر رضا، عادل رشید سمیت متعدد نام شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔