دبئی: ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 کے چوتھے سیزن کے آغاز سے قبل لیگ انتظامیہ اور براڈکاسٹ پارٹنر زی نیٹ ورک نے نئے اور تجربہ کار کمنٹیٹرز پر مشتمل ایک جامع کمنٹری پینل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پینل میں اس سال تین اہم چہروں کی شمولیت نے ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے جن میں پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک، بھارت کے سابق اسٹار محمد کیف اور زمبابوے کے معروف کرکٹر و کوچ اینڈی فلاور شامل ہیں۔نئے شامل ہونے والے ماہرین کے ساتھ موجودہ پینل میں وسیم اکرم، سائمن ڈول، ایان بشپ، ہربھجن سنگھ، روہن گواسکر، الن ولکنز، وقار یونس، ڈیرن گنگا، اویس شاہ، مائیک ہیزمین، عروج ممتاز، انجم چوپڑا، نکھل چوپڑا، ویوک رازدن، سبا کریم، اجے مہرا اور ریما ملہوترا جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ نام شامل ہیں جو انگریزی اور ہندی میں شائقین کو کھیل کے قریب تر لائیں گے۔براڈکاسٹ ٹیم میں لارا میک گولڈ رک، گریس ہیڈن، ارجن پانڈت اور ردھیما پتھاک بھی فرائض سرانجام دیں گے۔وسیم اکرم نے کہا کہ یو اے ای میں کھیلے گئے اپنے یادگار لمحوں کے باعث وہ اس لیگ سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور چوتھے سیزن میں بطور کمنٹیٹر واپسی ان کے لیے باعثِ خوشی ہے۔ شعیب ملک نے اپنے پہلے کمنٹری سیزن کے حوالے سے کہا کہ وہ پرجوش ہیں اور ساتھی کرکٹرز کے ساتھ پلیٹ فارم شیئر کرنا ایک خوشگوار تجربہ ہوگا۔ اینڈی فلاور نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لیگ میں سعودی عرب اور کویت کے کھلاڑیوں کی شمولیت سے اس سال مقابلہ مزید مضبوط ہوگا، جبکہ ایان بشپ نے کہا کہ یہ لیگ خطے میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کا آغاز 2 دسمبر کو یو اے ای کے قومی دن کے موقع پر ہوگا جبکہ 34 میچز پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ 4 جنوری 2026 کو فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ اس سیزن میں دنیا بھر کے بڑے کرکٹرز ایکشن میں نظر آئیں گے جن میں فل سالٹ، سنیل نرائن، آندرے رسل، سیم کرن، نور احمد، نسیم ، شمرون ہیٹمائر، روومن پاؤل، مصتفیض الرحمان، معین علی، پتہم نسانکا، رحمٰن اللہ گرباز، کیرون پولارڈ، نکولس پوران، سکندر رضا، عادل رشید سمیت متعدد نام شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل