ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرِ خزانہ و قومی معیشت سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور بحرین کے وزیراعظم و ڈپٹی سپریم کمانڈر، شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے تناظر میں، ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیرِ خزانہ و قومی معیشت، شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ سے مفید اور نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین مالیاتی شعبے میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بحرین کا علاقائی سلامتی اور انسدادِ منشیات تعاون بڑھانے پر اتفاق
بحرین نے فِنانشل ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور پاکستان کے بینکاری و مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنی مہارت اور تجربات کے اشتراک کی پیشکش کی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ سرکاری حکام پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو مالیات، بینکاری، تجارت اور معیشت کے شعبوں میں مستقبل کی شراکت داری کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کریں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحرین ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ و قومی معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار بحرین کے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔