آئی سی سی کی جانب سے منگل کو ممبئی میں جاری کیے جانے والے شیڈول کے مطابق بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو کولمبو میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں گی۔

2025 کے ایشیا کپ میں 3 تلخ میچوں کے بعد دونوں ٹیموں کی پہلی ٹکر ہوگی، یہ بڑا مقابلہ آر پریما داسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا اور یہ بھارت کاا گروپ مرحلے کا تیسرا میچ ہوگا۔

بھارت اور پاکستان کو امریکا، نیدرلینڈز اور نمیبیا کے ساتھ ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 کرکٹ میں بدترین کارکردگی، آخری 25 میچوں میں بڑی ٹیموں کے خلاف پاکستان کے نتائج کیا رہے؟

بھارت اپنا پہلا گروپ میچ 7 فروری کو ممبئی میں امریکا کے خلاف کھیلے گا، جو ورلڈ کپ کا افتتاحی دن بھی ہے، اس کے بعد 12 فروری کو نئی دہلی میں نمیبیا کے خلاف مقابلہ ہوگا۔

 https://Twitter.

com/ESPNcricinfo/status/1993043444970012973

پھر 15 فروری کو پاکستان کے خلاف میچ، جبکہ آخری گروپ میچ 18 فروری کو احمد آباد میں نیدرلینڈز کے خلاف ہوگا، ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں روزانہ 3 میچ کھیلے جائیں گے۔

7 فروری سے 8 مارچ تک جاری رہنے والا 2026 کا مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ کی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر میزبانی کریں گے، جبکہ پاکستان اپنے تمام میچ کولمبو یا کینڈی میں کھیلے گا۔

مزید پڑھیں:5 گیندوں پر 5 شکار: کرٹس کیمفر نے ٹی20 کرکٹ کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا

ٹورنامنٹ کا فارمیٹ 2024 میں امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ایونٹ جیسا ہی ہے، یعنی 20 ٹیموں کو 5 گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

ہر گروپ سے 2 بہترین ٹیمیں سپر8 مرحلے میں پہنچیں گی، جہاں انہیں 2 گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا، ہر سپر 8 گروپ کی 2 بہترین ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جن کے بعد فائنل کھیلا جائے گا۔

اگر بھارت گروپ مرحلے سے آگے بڑھتا ہے تو اس کے 3 سپر8 میچ احمد آباد، چنئی اور کولکتہ میں ہوں گے۔ سیمی فائنل تک رسائی کی صورت میں بھارت کا میچ ممبئی میں رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے ٹی20 کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے دوسرے سیمی فائنل کے لیے کولمبو یا کولکتہ کو شارٹ لسٹ کیا ہے، جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سری لنکا یا پاکستان کوالیفائی کرتے ہیں یا نہیں۔

فائنل احمد آباد میں ہوگا، تاہم اگر پاکستان فائنل میں پہنچتا ہے تو فائنل کے کولمبو منتقل ہونے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی20 کرکٹ میں بدترین بولنگ کا نیا ریکارڈ، یہ اعزاز کس بولر کو ملا؟

میزبان بھارت اور سری لنکا کے علاوہ ٹی20 ورلڈ کپ میں شریک دیگر 18 ٹیمیں افغانستان، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، امریکا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، پاکستان، آئرلینڈ، کینیڈا، اٹلی، نیدرلینڈز، نمیبیا، زمبابوے، نیپال، عمان اور یو اے ای شامل ہیں۔

بھارت 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر چیمپیئن بنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

2026 ٹی20 ورلڈ کپ آئی سی سی اسٹیڈیم امریکا بھارت پاکستان سری لنکا کولمبو کینڈی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 2026 ٹی20 ورلڈ کپ اسٹیڈیم امریکا بھارت پاکستان سری لنکا کولمبو کینڈی ٹی20 ورلڈ کپ بھارت اور فروری کو ٹی20 کرکٹ سری لنکا جائے گا کے خلاف

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف