ٹرائنگولر ٹی 20 سیریز، انجانے خدشات نے آئی لینڈرز کولپیٹ میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
کراچی:
ٹرائنگولر ٹی 20 سیریز میں سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان اہم میچ آج ہوگا، انجانے خدشات نے آئی لینڈرز کو لپیٹ میں لے لیا۔
افریقی حریف کے ہاتھوں ایک اور شکست فائنل کی دوڑ سے باہر کردے گی، ٹرافی میچ کیلیے اسے دیگر دونوں لیگ میچز جیتنا ہوں گے۔
دوسری جانب زمبابوین ٹیم کو فائنل کا ٹکٹ کٹوانے کیلیے اپنے آخری مقابلے میں فتح درکار ہے، کپتان سکندر رضا نے ٹیم کو اہم معرکے کیلیے پھر سے صف آرا ہونے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم اتوار کی شب زمبابوے کو مات دے کر ٹرائنگولر ٹی 20 سیریز کے فائنل میں سیٹ بک کراچکی ہے ، زمبابوے نے اپنے گزشتہ لیگ میچ میں سری لنکا کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 2 قیمتی پوائنٹس حاصل کیے۔
اس کا مقابلہ اب آج شب ایک بار پھر آئی لینڈرز سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پرہوگا، ایک اور کامیابی زمبابوین ٹیم کو پاکستان کے ساتھ فائنل کھیلنے کا پروانہ تھما دے گی۔
گرین شرٹس کے ہاتھوں مات کے بعد بشت چیت میں کپتان سکندر رضا کا کہنا تھا کہ ہمیں سری لنکا کے ساتھ مقابلے کیلیے ری گروپ ہونا ہوگا، ہمیں بطور پلیئر خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسپن بولنگ کو کھیل سکتے ہیں، ہمیں مشکل صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کو اب تک سیریز میں کھیلے گئے اپنے دونوں میچز میں زمبابوے اور پاکستان سے شکست ہوچکی اور اب ان دونوں ہی ٹیموں کے ساتھ ایک ایک میچ باقی ہے۔
فائنل کھیلنے کیلیے آئی لینڈرز کو دونوں میچز جیتنا ہوں گے، منگل کے مقابلے میں شکست اسے فائنل کی دوڑ سے باہر کردے گی۔
گزشتہ 5 باہمی میچز میں سے 3 میں سری لنکا اور 2 میں زمبابوے نے کامیابی حاصل کی، بیٹرز میں سری لنکا کی جانب سے پاتھم نسانکا اور کوشل پریرا جبکہ زمبابوے کے برین بینیٹ اور سکندر رضا توقعات کا محور ہوں گے۔
بولنگ میں آئی لینڈرز کو دشمانتھا چمیرا اور وانندو ہسارنگا سے امیدیں ہوں گی، زمبابوین سائیڈ کا انحصار بریڈ ایوانز اور رچرڈ نگاراوا پر ہوگا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی لینڈرز کو میں سری لنکا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔