ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: گروپس کی تفصیلات سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپس اور پاک بھارت مقابلے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا جس کے شیڈول کا باضابطہ اعلان 25 نومبر کو کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کیلئے 20 ٹیموں کو 4 گروپس میں 5، 5 ٹیموں کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا، ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیمیں سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی جب کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک گروپ میں شامل ہوں گی جن کے درمیان مقابلہ 15 فروری کو کولمبو میں ہوگا۔پاکستان اوربھارت کے گروپ میں نیدرلینڈز، نمیبیا اور یو ایس اے کی ٹیم کے ہونے کا امکان ہےجب کہ مشترکہ میزبان سری لنکا کے گروپ میں آسٹریلیا، زمبابوے، آئر لینڈ اور عمان شامل ہیں۔اس کے علاوہ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلا دیش، نیپال اور اٹلی ایک گروپ میں جب کہ ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، افغانستان، یو اے ای اور کینیڈا کے ایک گروپ میں شامل ہونےکا امکان ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں میچز ممبئی، کولکتہ، چنئی، دہلی اور احمد آباد میں ہوں گے ، سری لنکا میں میچز کولمبو اور کینڈی میں کھیلے جائیں گے جب کہ پاکستان اپنےمیچز سری لنکا میں کھیلے گا۔بھارت کے شہر احمد آباد کوفائنل کیلئے منتخب کیا گیا ہے تاہم پاکستان کے فائنل میں پہنچنے کی صورت میں فائنل کولمبو میں ہوگا۔سیمی فائنلز کے لیے ممبئی اور کولکتہ کو چنا گیا ہے، وینیوز کا انحصارسیمی فائنلسٹ ٹیموں پر ہوگا اور پاکستان کے پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل سری لنکا میں ہی کھیلا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی گروپ میں سری لنکا جائے گا
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔