پاکستان نے بنگلادیش کو ایک لاکھ ٹن چاول برآمد کرنےکیلئے تیاریاں شروع کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان نے بنگلادیش کو ایک لاکھ ٹن چاول برآمد کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چاول کی خریداری کے لیے باضابطہ طور پر ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ٹی سی پی کے مطابق چاول کراچی پورٹ کے ذریعے بنگلادیش برآمد کیا جائے گا، بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 نومبر مقرر کی گئی ہے جبکہ بولی کے لیے کم از کم 25 ہزار ٹن اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ ٹن کی حد مقرر ہے۔کنٹریکٹ ایوارڈ ہونے کے 45 روز کے اندر ترسیل کو لازمی قرار دیا گیا ہے، پاکستان نے حال ہی میں بنگلادیش کو خطے کے ممالک بشمول چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لیے کراچی پورٹ بطور گیٹ وے استعمال کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی چاول برآمدات میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔امریکا کی جانب سے بھارتی چاول سمیت مختلف مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانےکے بعد پاکستان کے لیے امریکی مارکیٹ میں نئی تجارتی گنجائش بھی پیدا ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان نے ایک لاکھ کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔