پاکستان بنگلہ دیش کو برآمد کرنے کیلئے ایک لاکھ ٹن چاول خریدے گا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن (ٹی سی پی) نے بنگلہ دیش کو سپلائی کرنے کے لیے ایک لاکھ ٹن چاول خریدنے کا ٹینڈر جاری کر دیا۔دہائیوں تک خراب تعلقات کے بعد اگست 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور دوطرفہ روابط میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ٹی سی پی کے 20 نومبر کو جاری کردہ ٹینڈر، جو ڈان نیوز کو موصول ہوا، کے مطابق قیمت کی پیشکشیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 نومبر کو صبح 11:30 بجے تک ہے۔ٹینڈر میں کمپنیوں، پارٹنرشپس اور واحد مالکان سے ”علیحدہ سربمہر بولیاں“ طلب کی گئی ہیں تاکہ ایک لاکھ ٹن لمبے دانے والے سفید چاول (IRRI-6) کی خریداری کی جا سکے، جو کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے ”بریک بلک کارگو“ کی شکل میں بنگلہ دیش کو برآمد کیا جائے گا۔قیمت کی پیشکشیں جمع کرانے کے بعد 21 ورکنگ دن تک قابلِ قبول ہونی چاہئیں۔ چاول معاہدہ ملنے کے 45 دن کے اندر شپمنٹ کے لیے تیار ہونا چاہیے۔بولیاں کم از کم 25 ہزار ٹن اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ ٹن (+/- 5 فیصد ایم او ایل ایس او یعنی 5 فیصد تغیر کی گنجائش) کے لیے جمع کرائی جائیں۔
ٹینڈر کے مطابق چاول “ تازہ ترین پاکستانی فصل کے اسٹاک“ سے فراہم کیا جائے اور انسانی استعمال کے لیے موزوں ہونا چاہیے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایک لاکھ ٹن بنگلہ دیش کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔